After the partition of Indo-Pak, the migration was compulsory for religious freedom. The city of traditions and customs of Majhlawan, Khuzdar, is considered the largest district of Pakistan. Its population is over 5,25,000. Majority of them are Muslims but minorities are also settled here in which Hindus, Christians and Sikhs are among of them.

The two main branches of Hindus in Khuzdar are Qalati and Kachi. The Kachi branch actually migrated from Gandwa Kachi and settled here. The Qalati branch came to Khzdar by migrated from ancient political and cultural city, Qalat. The Qalati branch lived in Qalat since the era of Khan of Qalat. The Khan of Qalat built the fort in Qalat for the security of Hindus, where they lived to inviolate their culture, customs and religion. That’s why the class of Hindus who were migrated from the city of Qalat is called as Qalati. There are two temples found in the world, by the named as Kali Mata, one of them is situated in Kolkata (India) whereas the other one is situated in Qalat (Balochistan), where every year the religious festival is organized and huge number of Hindus goes towards their place of worship. In Khuzdar, there are two temples of Hindus, where Hindus live according to their religious freedom and visit worships to glorify their gods. Khuzdar is the 2nd largest city of Balochistan which is also positioned as a
successful trade city. And indeed, it would be right to say that the
Hindu community plays an important role to make Khuzdar more
successful trade city. When we want to ask the opinion of Hindu community about the security of trade, they replied, “All type of security has been providing to the traders and they are spending a peaceful life and doing a freely business.

There are two temples found in the world, by the named as Kali Mata, one of them is situated in Kolkata (India) whereas the other one is situated in Qalat (Balochistan), where every year the religious festival is organized and huge number of Hindus goes towards their place of worship.

The Hindu community lives in Khuzdar want to see it as a successful city and for this they continuously busy in their work. It is not wrong to say that Hindu community comes as first place that made Khuzdar as a successful trade city. All the big shops and silk centres at Karachi Khauzdar road are owned by Hindus. Other than that, all the shops at Masjid road, Mushky road and all other places are owned by Hindus traders. Due to the better behavior of Hindu traders, it is witnessed that our majority of people show their interest in doing business with them. To maintain their culture and customs, this minority have built the good relations not only with the people of Khuzdar city but also with the people who belong to the rural areas of Khuzdar. It influences not only on the most successful business of Khuzdar but this relation has also greatly helped them in driving the peaceful life.

Similarly, every Baloch tribe living in Khuzdar has established the kind and best relationship with the community, and it’s clear evidence is the freedom of this minority whether it is in respect to the worship or trading. When talked about the religious freedom, their two biggest festivals are Holi and Dewali. The Hindu community that settled in Khuzdar celebrates their festivals with great enthusiasm and peace. In the respect of their religious festivals district administrations as well as people with great cooperation prompt the minority community to adopt their free life style.

Similarly, in the respect of Islam, Hindu community halts all their businesses and happily celebrates Eid-ul – Fitar and Eid ul Azha with the Muslims. There is a separate locality of Hindu community in Khuzdar that is famous by the name of “Hindu Mohalla”, where Hindus are living according to their culture. If this community is continuously provided security with the same manner, than the day will not away, when the Khuzdar city will be listed as a successful business city. Hindus act as a vanguard in the success of Khuzdar and its vicinity by offering their trading services. They have been playing an important role to alive the tradition of Khuzdar and the Baloch tribes who live here also see their valuable services with an appreciation look. This point is visible as an illuminated day that in the development and prosperity of Khuzdar, Hindu Community is not below to any other nation.

From 2011 to 2014, Khuzdar city came like under the wrath of God that affected all the nations who lived here. Hindu community also faced a great loss by direct kidnapped indemnity, thievery and robbery. Because of this, the businesses of Hindu community ended and the big traders of Hindu community migrated from the city. Majority of Hindu community still keep the Khuzdar city in their hearts by forgetting all the losses. Because of this now Hindu community including people from all aspects of life are joining happily with all their trading activities as well as in other activities. It is important for the development and prosperity of Khuzdar to maintain the peace here, and provide complete security especially to the traders of Hindu community and provide pleasant and peaceful environment to other communities so that they could freely take part in the building and development of Khuzdar. The day is not away when Khuzdar will become the trading gateway of Pakistan and its people will play an important role in enlightening the name of their country.

خضدار کی ترقی میں ہندو برادری کا کردار 

تحریر: سحر بلوچ 

پاک وہند کی تقسیم کے بعد مذہبی عبادات کی آزادی کے لئے ہجرت کرنا لازمی تھا۔مجھالاوان کی روایتوں اور ثقافتوں کا شہر خضدار پاکستان کا سب سے بڑا ضلع مانا جاتا ہے ۔جہا ں کی آبادی 5لاکھ 25ہزار سے زائد ہے ۔ یہاں مسلمان اکثریت کے ساتھ اقلیتی برادری بھی آباد ہے ۔جن میں ہندو ،عیسائی اور سکھ اقلیت شامل ہیں۔ 

خضدار میں ہندو برادری کی دو بڑی شا خیں قلاتی اور کچھی شاخ دراصل گنداواہ کھچی سے ، ہجرت کرکے خضدار آئی اور یہیں آباد ہوئیں۔ جبکہ قالاتی شاخ بلوچستان کے قدیم سیاسی اور ثقافتی شہر قلات سے ہجرت کرکے خضدار آئی ۔قلاتی شاخ خان آف قلات کے دورہی سے قلات میں رہائش پذیر تھی ۔ قلات میں ہندو برادری کے تحفظ کے لئے خان اف قلات نے ایک قلعہ بنوایاتھا۔ جسں میں اپنی تہذیب و تمدن اور مذہب کو برقرار رکھتے ہوئے ہندو اقلیت قیام پذیر تھی۔ اس لئے قلات شہر سے ہجرت کرکے خضدار آنے والے اس ہندو طبقے کو قلاتی کہاجاتا ہے۔ کالی ماتا کے نام سے دنیا میں دو بڑے مندر پائے جاتے ہیں جن میں سے ایک کو لکتہ (بھارت) میں موجود ہے اور دوسرا مندر قلات (بلوچستان) میں موجود ہے۔ جہاں ہر سال ایک مذہبی میلہ منعقد ہوتا ہے اور جس میں بڑی تعداد میں ہندو برادری اپنی عبادت گاہ کا رخ کرتی ہے۔ خضدار میں ہندو ؤں کے دو مندر موجود ہیں جہاں ہندو اپنی زندگی مذہبی آزادی کے اعتبار کے حوالے سے اپنی عبادت گاہ میں اپنے بھگوان کے درشن اور پوجا کرنے جاتے ہیں۔ خضدار شہر بلوچستان کا دوسرا بڑا شہر ہے جو تجارتی حوالے سے بھی کامیاب شہر کی حیثیت رکھتا ہے اور یہ کہنا بلاشبہ بجا ہی ہوگا کہ شہر خضدار کو تجارتی حوالے سے کامیاب تر بنانے میں ہندو برادری کا اہم کردار ہے۔تجارت کے تحفظ کے حوالے سے جب ہم نے ہندو برادری کی رائے جاننا چاہی تو جواب ملا کہ “ہم تاجروں کو ہر طرح کا تحفظ فراہم کیا جارہا ہے اور اس شہر میں پر امن زندگی اور پر امن کاروبار کررہے ہیں۔ “

کالی ماتا کے نام سے دنیا میں دو بڑے مندر پائے جاتے ہیں جن میں سے ایک کو لکتہ (بھارت) میں موجود ہے اور دوسرا مندر قلات (بلوچستان) میں موجود ہے۔ جہاں ہر سال ایک مذہبی میلہ منعقد ہوتا ہے اور جس میں بڑی تعداد میں ہندو برادری اپنی عبادت گاہ کا رخ کرتی ہے۔

خضدار میں رہائش پذیر ہندو برادری خضدار کو ایک کامیاب شہر کی طرح دیکھنا چاہتے ہیں اور دن رات اپنے کام میں مگن رہتے ہیں۔اصل میں یہ کہنا ہرگز غلط نہ ہوگا کہ خضدار کو تجارتی کامیابی دلانے میں ہندو برادری اولین سطح پر شامل ہے۔ کراچی روڈ خضدار پر موجود تمام بڑی بڑی دکانیں اور سلک سینٹرزہندوؤں کے ہیں ۔ اسکے علاوہ مسجد روڈ ، مشکی روڈ اور باقی تمام تر جگہوں پر موجود دکانیں ہندو تاجران کی ہیں۔ ہندو تاجران کے بہتر سلوک کی وجہ سے ہماری اکثریت بھی خرید و فروخت میں دلچسپی کا اظہار انہی کی دکانوں کی طرف کرتی دکھائی دیتی ہے۔ اپنی تہذیب و تمدن کو برقرار رکھتے ہوئے قلات کی اقلیتوں نے خضدار کے شہر یوں کے ساتھ ساتھ خضدار کے دیہی علاقوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں سے بھی اچھی تعلقات قائم کر رکھے ہیں۔ جن کا اثر نہ صرف خضدار کے کامیاب ترین کاروبار پر ہے بلکہ ان تعلقات نے انھیں آپس میں پر امن طریقے سے نظام زندگی چلانے میں بڑی مدد دی ہے۔ اسی طرح خضدار میں رہائش پذیر ہر بلوچ قبیلے نے ہندو برادری کے ساتھ ہمدردانہ اور بہترین تعلقات قائم کر رکھے ہیں

جس کا واضح ثبوت اس اقلیت کی آزادی ہے خواہ وہ عبادت کے اعتبار سے ہو یا تجارتی اعتبار سے۔مذہبی آزادی کے حوالے سے جب بات کی جائے تو ان کے دو بڑے تہوار ہولی اور دیوالی ہیں اور خضدار میں آباد ہندو برادری اپنے یہ دونوں تہوار پُر جوش اور پُر امن طریقے سے مناتی ہے ۔ان کے مذہبی تہوار کا احترا م کرتے ہوئے ضلع انتظامیہ کے ساتھ ساتھ خضدار کی عوام الناس بھر پور تعاون کرکے اس اقلیتی برادری کو آزادانہ طرز زندگی اپنانے پر آمادہ کرتی ہے ۔

اسی طرح اسلام کا احترام کرتے ہوئے ہندو برادری عیدالفطر ہو یا عید الاضحی یا کوئی اور مذہبی تہوار ہو، وہ اپنے تمام تر کاروبار زندگی کو مفلوج کرکے مسلمانوں کے ساتھ خوشی خوشی عید مناتے ہیں۔خضدار میں ہندو برادری کا الگ محلہ ہے جو “ہندو محلہ”کے نام سے مشہور ہے ۔ جہاں ہندو ثقافتی اعتبار سے اپنی زندگی بسر کر رہے ہیں۔ اگر اس برادری کو اسی طرح تحفظ فراہم کیا جاتا رہے تو وہ دن دور نہ ہوگا جب شہر خضدار کو کاروبار ی لحاظ سے کامیاب ترین شہر شمار کیا جائیگا۔ ہندوؤں نے خضدار شہر سمیت گرد و نواح کے علاقوں میں اپنی تجارتی خدمات سرانجام دے کر یہاں کی ترقی میں ہر اول دستے کا کردار ادا کیا ہے۔ وہ یہاں کی روایات کو زندہ رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے چلے آرہے ہیں جبکہ یہاں پر بسنے والی تمام بلوچ اقوام بھی ان کی گراں قدر خدمات کو بھی قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہیں بلکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ ہندوبرادری خضدار کی ترقی اور خوشحالی کے لئے دیگر اقوام سے کسی طرح بھی پیچھے نہیں رہی ۔ 

ک.2011 کےبعد2014 تک خضدار شہر پر ایک طرح کا عذاب الٰہی نازل ہواجس میں یہاں بسنے والی تمام اقوام متاثر ہوئیں تو ان کے ساتھ ہندو برادری کو بھی اغواء برائے تاوان ، چوری، ڈکیتی کے باعث زبردست نقصان اٹھانا پڑا جس کی وجہ سے ہندو برادری کا کاروبار ٹھپ ہو کر رہ گیا اور ہندو برادری کے بڑے بڑے تاجروں کو شہر سے ہجرت کرنا پڑا۔ مگر بیشتر ہندو برادری تمام نقصانات کو بھلاکر خضدار شہر کو اپنے دل میں بسائے رکھے ہوئے ہے۔ جس کی وجہ سے اب ہندو برادری سمیت تمام طبقہ فکر اپنی تجارتی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ دیگر مصروفیات میں بخوشی شامل ہو رہے ہیں۔ خضدار کی ترقی و خوشحالی کے لئے ضروری ہے کہ یہاں پر امن و امان کو اسی طرح برقرار رکھا جائے اور یہاں پر خصوصاً ہندو برادری ،جو تجارت پیشہ لوگ ہیں ، کو مکمل طور پر تحفظ اور دیگر اقوام کو آزادانہ طور پر خضدار کی تعمیر و ترقی میں حصہ ڈالنے کے لئے امن و امان سمیت خوشگوار ماحول فراہم کیا جائے ۔ وہ دن دور نہیں جب خضدار پاکستان کا تجارتی گیٹ وے بن جائیگا اور یہاں کے لوگ اپنے ملک کا نام روشن کرنے میں کردار کریں گے۔