In any civilized society archaeological sites are cherished as national treasures. Archeology acts as conduit that allows the humans to look into the past beyond tMehergarh maphe written records. Pakistan is also rich in archeological treasures but it doesn’t give equal attention to all of them. MoenjoDaro, Harappa and Shahlamar gardens are given more importance than Mehrgarh in Balochistan.

Mehrgarh is the oldest archaeological site in modern day Pakistan. It’s the second oldest Indus valley site after Bhirrana, located Haryana India, according to Archaeological Survey of India report of 2014. It’s situated in Kachi district of Balochistan, at a distance of 30 kilometer from Sibi city. Spreading on an area of over 250 hectares, Mehrgarh is home to the oldest farming settlement of Indus valley civilization. According to archaeologists, Mehrgarh was founded in year 7000 BC and abandoned in year 2500 BC. Mehrgarh predates MoenjoDaro and Harappa civilianization and, in fact, Mehrgarh was abandoned due to advent of urbanized phase of MoenjoDaro.

Residents of Mehrgarh practiced proto-dentistry 9,000 years ago. Based on the examination of a tooth discovered form a grave in Mehrgarh, flint heads were used to drill teeth to cure toothache. This is just a glimpse of how modern Mehrgarh was in context of Neolithic period of history.

Credit of discovery of Mehrgarh goes to a French archeologist couple; Jean-François Jarrige and Catherine Jarrige. In 1974, Mehrgarh was discovered by Jean-François Jarrige and Catherine Jarrige while they were working on an archeological mission in Kachi plains. Excavation work on Mehrgarh was carried out in two phases, from 1974 to 1986 and again from 1997 to 2000.

BIJUL2015_Page_17_Image_0003BIJUL2015_Page_17_Image_0004BIJUL2015_Page_17_Image_0005BIJUL2015_Page_17_Image_0006Unfortunately, Mehrgarh has never got the required level of attention that MoenjoDaro has got from the federal government. As a result, archeological site of Mehrgarh has been damaged due to erosion and a tribal feud.

In 2002, an armed tribal conflict between Rind and Raisani tribes badly damaged Mehrgarh. A portion of Mehrgarh was vandalized due to the rockets that were fired from both tribes. Another portion of Mehrgarh was damaged when it was accidently ploughed by farmers. Due to the apathy of federal government back then, Mehrgarh was damaged by man made activities which could easily have been averted.

Moreover, in October last year Italian government recovered antiques that were stolen from Mehrgarh. As of this moment Balochistan government has not received them back due to bureaucratic red tape and lack of interest of the officials. That’s another indicator which suggests that Mehrgarh and its assets are not being protected in an appropriate way.

Hafeez Jamali, an Anthropologist and Director of Balochistan Archives, doesn’t agree with the assertion that provincial government is not doing enough for Mehrgarh. He states that archeological work in entire province has ceased due to deteriorating law and order situation. He also added that Archaeology department was devolved to provinces after the 18th amendment and therefore it’s in transition from federal control to provincial control. According to Mr. Jamali, devolution of archaeology department is also contributing to delay in conservation work on Mehrgarh.


Furthermore, Mehrgarh is not receiving the due attention because it has not acquired the status of World Heritage Site. UNESCO designates archeological sites of physical and cultural significance as world heritage sites. There are 6 such sites in Pakistan at the moment. World heritage sites receive funds for preservation from World Heritage fund. Most importantly, Word heritage sites are protected from hostility and destruction during act of war under Geneva Convention and Hague Convention for the Protection of Cultural Property in the Event of Armed Conflict. UNESCO also maintains tentative list of sites that can be designated as World heritages sites in future. Mehrgarh is part of tentative list since 2004 but so far it has not been designated as a World Heritage Site.

Archaeological site of Mehrgarh is remainder of the golden age of Indus valley civilization. This is a national asset and should be protected by both federal and provincial governments. If government of Balochistan didn’t start preservation of Mehrgarh site in war footings then this can be lost altogether in near future. UNESCO also needs to understand that designating Mehrgarh as a World heritage site can literally save it from gradual destruction. Balochistan government would be compelled to look after Mehrgarh in an appropriate way once it has been designated as a world heritage site. Lastly, members of civil society, social organizations and academics need to play their part in putting pressure on government to protect Mehrgarh. Loss of Mehrgarh would not be a loss of few old structures but it would be a gigantic misfortune for generations to come.

In 2002, an armed tribal conflict between Rind and Raisani tribes badly damaged Mehrgarh. A portion of Mehrgarh was vandalized due to the rockets that were fired from both tribes.

مھرگڑھ: نظرانداز ثقافتی خزانہ
عدنان عامر

کسی بھی مہذب معاشرے میں آثار قدیمہ کے مقامات قومی خزانے سے وابستہ سمجھے جاتے ہیں۔ آثار قدیمہ کے ماہر راہداری کے طور پر کام کرتے ہیں جس سے انسانوں کو یہ اختیار مل جاتا ہے کہ وہ تحریر ی ریکارڈ سے بھی پیچھے جاکر ماضی کے بارے میں تحقیقات کرے۔ پاکستان آثار قدیمہ کے ذخائر میں بھی مالا مال ہے لیکن حکومت سب کو مساوی حیثیت نہیں دیتی۔ موئن جو دڑو، ہڑپہ اور شالیمار باغ کو بلوچستان کے مہرگڑھ کے مقابلے میں زیادہ اہمیت دی جاتی ہے۔

آج کے جدید پاکستان میں آثار قدیمہ کے مقامات میں مہرگڑھ سب سے قدیم مقام ہے۔ بھارتی آرکیالوجیکل سروے کی 2014 کی رپورٹ کے مطابق بھارت میں ہریانہ کے مقام پر بھرانا کے بعد یہ سندھ کی دوسری قدیم ترین وادی ہے۔ یہ بلوچستان کے ضلع کچھ میں واقع ہے جبکہ سبی شہر سے 30 کلومیٹر دور ہے۔ 250 ہیکٹرز سے زائد رقبے پر پھیلنے کے ساتھ مہرگڑھ وادی سندھ کی تہذیب میں سب سے قدیم فارمنگ کی آبادکاری کا مرکز ہے۔ ماہرین آثار قدیمہ کے مطابق مہرگڑھ 7 ہزار قبل مسیح میں قائم ہوا اور ڈھائی ہزار قبل مسیح میں خالی ہوگیا۔ مہرگڑھ کی تہذیب موئن جودڑو اور ہڑپہ سے بھی پرانی ہے۔ درحقیقت موئن جوڈرو میں جدت کے ظہور کے باعث مہرگڑھ چھوڑ دیا گیا۔

مہرگڑھ کے رہائشی 9 ہزار سال قبل قدیم دندان سازی کے ماہر تھے۔ مہرگڑھ میں ایک قبر سے دریافت ہونے والے ایک دانت کے معائنے سے یہ بات سامنے آئی کہ دانت کے درد سے آرام کے لئے دانتوں میں ڈرل کے لئے چقماق کے سرے استعمال کئے گئے۔ یہ ایک محض ایک جھلک ہے کہ پتھر کے زمانے کی تاریخ کے حوالے سے مہرگڑھ کتنا جدید تھا۔

مہرگڑھ دریافت کرنے کا سہرا ایک فرانسیسی جوڑے جین فرانکوئس جیرج اور کیتھرین جیرج کو جاتا ہے۔ 1974 میں مہرگڑھ جے فرانکوئس جے رج اور کیتھرین نے اس وقت دریافت کیا جب وہ کچھی کے میدانوں میں آثار قدیمہ سے متعلق کام کررہے تھے۔ مہرگڑھ کی کھدائی کا کام دو مراحل میں کیا گیا۔ پہلے مرحلے میں 1974 سے 1986 تک کام ہوا جبکہ دوسرے مرحلے میں 1997 سے 2000 تک دوبارہ کام کیا گیا۔

بدقسمتی سے وفاقی حکومت نے مہرگڑھ کو کبھی بھی ویسی توجہ نہ دی جس طرح موئن جودڑو نے حاصل کی۔ اس کے نتیجے میں مہرگڑھ کے تاریخی مقام کو ماحولیاتی تبدیلیوں اور ایک قبائلی تنازعے کے باعث نقصان پہنچا۔

2002 میں رند اور رئیسانی قبائل کے درمیان مسلح تصادم کے باعث مہرگڑھ کو بری طرح نقصان پہنچا۔ مہرگڑھ کا ایک حصہ دونوں قبیلوں کی جانب سے راکٹ فائر کرنے کے باعث تباہ ہوگیا۔ مہرگڑھ کے ایک اور حصے کو کسانوں نے حادثاتی طور پر نقصان پہنچا دیا۔ اس کے بعد سے وفاقی حکومت کی عدم دلچسپی کے باعث مہرگڑھ کو لوگوں کی سرگرمیوں کے باعث نقصان پہنچا حالانکہ اس کو آسانی سے روکا جاسکتا تھا۔

مزید یہ کہ گزشتہ سال اکتوبر میں اطالوی حکومت نے چوری شدہ نوادرات برآمد کیں جو مہرگڑھ سے چرائی گئی تھیں۔ بلوچستان کی حکومت اب تک بیوروکریسی کے سرخ فیتے اور حکام کی عدم دلچسپی کے باعث انہیں واپس نہیں لے سکی ہے۔ یہ ایک اور اشارہ ہے جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ مہرگڑھ اور اسکے اثاثوں کو مناسب انداز سے تحفظ فراہم نہیں کیا جارہا۔

ماہر بشریات اور بلوچستان کے محکمہ آرکائیوز کے ڈائریکٹر حفیظ جمالی اس خیال سے متفق نہیں کہ صوبائی حکومت مہرگڑھ کے لئے کافی کچھ نہیں کررہی۔ ان کا کہنا ہے کہ امن و امان کی خراب ہوتی صورتحال کے باعث پورے صوبے میں آثار قدیمہ کا کام رک گیا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ 18 ویں ترمیم کے بعد محکمہ آثار قدیمہ صوبوں کو منتقل کردیا گیا ہے اور وفاقی حکومت کی جانب سے اس محکمہ کا کنٹرول صوبائی حکومت کو منتقل کیا جارہا ہے۔ حفیظ جمالی کے مطابق محکمہ آثار قدیمہ کے صوبے کو منتقل ہونے سے بھی مہرگڑھ میں تحفظ کے کام میں تاخیر ہورہی ہے۔

مزید یہ کہ مہرگڑھ ضروری توجہ سے بھی محروم ہے کیونکہ اسے عالمی ثقافتی ورثے کی حیثیت حاصل نہیں ہے۔ یونیسکو (UNESCO) کی جانب سے طبعی اور ثقافتی اہمیت کے حامل مقامات کو عالمی ثقافتی ورثے کی حیثیت حاصل ہوجاتی ہے۔ فی الوقت پاکستان میں ایسے چھ مقامات ہیں۔ عالمی ثقافتی ورثے کی حفاظت کے لئے ورلڈ ہیری ٹیج فنڈ کی جانب سے فنڈز موصول ہوتے ہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ عالمی ثقافتی ورثے والے مقام کو جنیوا قوانین اور مسلح تنازع کی صورت میں ثقافتی تحفظ سے متعلق ہیگ قوانین (Hague Convention for the Protection of Cultural Property in the Event of Armed Conflict) کے تحت لڑائی اور تباہی سے محفوظ رکھا جاتا ہے۔ یونیسکو بھی عارضی طور پر ایسے مقامات کی فہرست تیار کرتی ہے جن کی مستقبل میں عالمی ثقافتی ورثے کی حیثیت متعین کی جاسکے۔ مہرگڑھ 2004 سے اس عارضی فہرست کا حصہ ہے لیکن اس کو اب تک عالمی ثقافتی ورثہ قرار نہیں دیا ہے۔

مہرگڑھ کا تاریخی مقام وادی سندھ کی تہذیب کے سنہرے دور کی یادگار ہے۔ یہ ایک قومی اثاثہ ہے جس کی حفاظت وفاقی و صوبائی دونوں حکومتوں کو کرنی چاہیے۔ اگر بلوچستان کی حکومت نے مہرگڑھ میں جنگی بنیادوں پر حفاظت کا کام شروع نہ کیا تو مستقبل قریب میں یہ جگہ مکمل طور پر تباہ ہوسکتی ہے۔ اس سلسلے میں یونیسکو مہرگڑھ کو متعین عالمی ثقافتی ورثہ قرار دے کر اسے بتدریج تباہی سے بھی بچا سکتی ہے۔ اس کے بعد بلوچستان کی حکومت مجبور کیا جائے گا کہ وہ مہرگڑھ کو ایک بار عالمی تاریخی ورثہ کے متعین مقام کی حیثیت ملنے کے بعد اسکی مناسب انداز سے دیکھ بھال کرے۔

آخر میں سول سوسائٹی کے ارکان، سماجی تنظیموں اور ماہرین تعلیم کو بھی چاہیے کہ وہ مہرگڑھ کی حفاظت کے لئے حکومت پر دباؤ ڈالنے کے لئے اپنا کردار ادا کریں۔ مہرگڑھ کا نقصان صرف چند پرانے ڈھانچوں کا نقصان نہیں ہوگا بلکہ آنے والی نسلوں کے لئے بھی یہ بڑی بدقسمتی ہوگی۔