Drone Strike carried out by USA in Balochistan last month was the first drone attack in the province but it will leave deep footprints on the security of the region for the time to come. In Balochistan and especially in Makran the security situation is really tense due to military operations and insurgent activities and the drone attack has further exacerbated the situation.

USA has always stated that military operations in Balochistan are the internal problem of Balochistan. Whenever American officials are asked that they carry out welfare work in all over Pakistan but not in Earthquake struck Awaran and flood and drought affected areas of Balochistan, then they say that they do not get NOC from Pakistani authorities. In this context, one can ask them that do they seek permission for drone attacks in Balochistan. Is it really what it seems or there is something that is being concealed.

Study of the history shows that ancestors of Baloch have protected their land with their lives. Today not only coast and resources of Balochistan but also bordering areas are insecure and it’s due to foreign Policy of Pakistan. Two neighboring countries of Pakistan; Iran and Afghanistan, who share border with Balochistan, have tense relations with Pakistan today. Most of the bordering areas of Balochistan are safe havens for Afghan Refugees and now they are also becoming sanctuaries for criminal elements.

Whether it’s military leadership or the provincial government, no one has showed seriousness in this matter and only deal this matter using press statements. Need of the hour is to improve relations with neighboring countries and security measures should be made stringent in bordering areas of Balochistan.

بلوچستان میں گزشتہ دنوں کیا گیا امریکی ڈرون حملہ اگرچہ امریکہ کی جانب سے کیا گیا پہلا ڈرون حملہ نہیں تھا لیکن آنے والے وقتوں میں یہ حملہ صوبے کی علاقائی سا لمیت کے لئے گہرے اثرات چھوڑ جائے گا۔ بلوچستان بالخصوص مکران بیلٹ کے علاقے نہ صرف امن و امان کی غیر یقینی صورتحال بلکہ اس کے ساتھ ساتھ چاہے وہ آزادی پسند تحریکیں ہوں یا پھر فوجی کارروائیوں کا شکار ہوتا آیا ہے اس پر پھر ڈرون حملے جیسے واقعات، امریکہ جو ہمیشہ بلوچستان میں جاری فوجی آپریشن کے حوالے سے یہ بیان دیتا رہا ہے کہ یہ خالصتاً پاکستان کا اندرونی معاملہ ہے اور جب بھی امریکہ سے بلوچستان میں خواہ وہ زلزلہ متاثرین آواران ہوں یا پھر قحط سالی کے علاقوں میں فلاحی کام سے متعلق سوال کیا جائے کہ اس صورتحال میں امدادی کام ملک بھر میں کئے جاتے ہیں تو بھلا بلوچستان میں کیوں نہیں جواب ملتا ہے کہ ” حکومت پاکستان کی جانب سے انہیں N.O.C یعنی اجازت نامہ نہیں ملتا ہے تو بھلا کوئی ان سے یہ پوچھے کہ کیا وہ اس طرح کے حملوں کی باقاعدہ اجازت لیتے ہیں؟
کیا کچھ یوں ہے کہ واقعی کوئی پردہ داری ہے بلوچ تاریخ کے اگر اوراق پلٹے جائیں تو ہمارے آباؤ اجداد نے اپنی زمین کی حفاظت اپنی جانوں کی قربانی دیکر کی، آج نہ صرف بلوچستان کے ساحل و وسائل بلکہ اس کے سرحدی علاقے بھی غیر محفوظ ہیں جس کی اہم وجہ پاکستان کی خارجہ پالیسی ہے۔
پاکستان کے دو برادر ہمسایہ ممالک ایران اور افغانستان جن کی سرحدیں بلوچستان سے ملتی ہیں آج ان دونوں ممالک سے پاکستان کے تعلقات کشیدہ ہیں بلوچستان کے اکثر سرحدی علاقے نہ صرف افغان مہاجرین کے لئے محفوظ پناہ گاہ ہیں بلکہ اس کے ساتھ ہی ساتھ اب جرائم کی پناہ گاہیں بھی بنتے جا رہے ہیں۔
عسکری قیادت ہو یا پھر صوبائی حکومت کسی نے بھی اس معاملے میں سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا اور معاملات صرف بیانات تک محدود کردیئے ہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ نہ صرف اپنے ہمسایہ ممالک سے تعلقات بہتری کی جانب استوار کئے جائیں اور ساتھ ہی ساتھ بلوچستان سے منسلک سرحدی علاقوں میں حفاظتی اقدامات اٹھائے جائیں۔