Editor’s Note

Dear Readers

Balochistan is the only province of Pakistan, where government does not work, but is pushed. Either it is a troubled area or peaceful conditions, economic downturn or lack of basic facilities. Indeed, it is a long elegy which nobody knows when it will tail off.

In order to deal with all these situations, the control of democrats is operated by a particular remote control but establishment is not ready to talk. In tribal system, either it includes Khan of Qalat, or Murree and Bugti, they doesn’t give any importance to the common people.

However, there is a fundamental problem in Balochistan, if Dr. Malik unable to meet with the given target to the large extent, either it is the matter of use of funds or to placating the disgruntled people. But the question is that if the disgruntled people are placated, will their demands be fulfilled? Or is it possible to restore the confidence of the people of Balochistan as such steps, beneficial to local, will have to be taken. If this is
possible, it is good. Otherwise, the key risk must be considered that all other important plans, among Pak China Economic Corridor, would prove to be the dream of a madman.


Tania Baloch

مدیر کا پیغام

بلوچستان پاکستان کا واحد صوبہ ہے جہاں حکومت چلتی نہیں چلائی جاتی ہے۔ شورش زدہ علاقے ہوں یا امن و امان کی صورتحال ہو، معاشی بدحالی ہو یا بنیادی سہولتوں کا فقدان ہو۔ گویا یہ وہ مرثیہ ہے جو نجانے کب دم توڑے گا۔

ان تمام حالات سے نمٹنے کے لئے جمہوریت پسندوں کے اختیارات ایک مخصوص ریموٹ کنٹرول سے چلتے ہیں جبکہ اسٹیبلشمنٹ بات کرنے کو تیار نہیں ہے۔ دوسری جانب قبائلی نظام میں خواہ خان آف قلات ہو یا مری و بگٹی، یہ عام بلوچ عوام کو خاطر میں نہیں لاتے۔

بہرحال بلوچستان میں ایک اہم اور بنیادی مسئلہ ہے، کہ اگر ڈاکٹر مالک اپنے دیئے گئے اہداف کو کافی حد تک پورا نہیں کرپاتے ہیں، چاہے وہ فنڈز کا استعمال ہو یا پھر ناراض لوگوں کا منانا۔ مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر روٹھے بھی مان جاتے ہیں تو کیا ان کے مطالبات پورے کئے جائیں گے اور پھر کیا یہ ممکن ہوسکے گا کہ بلوچستان کے عوام کا اعتماد بحال کرنے کے لئے ایسے اقدامات اٹھائے جائیں گے کہ جن کا فائدہ مقامی افراد کو ہوگا؟۔ اگر یہ سب ممکن ہوا تو خیر ہے۔ ورنہ یہ اہم خدشہ مدنظر رہے کہ پاکستان چین اقتصادی راہداری سمیت دیگر تمام منصوبے دیوانے کا خواب ثابت ہوں گے۔ 

تانیہ بلوچ 

ایڈیٹر ا ن چیف