Tahira Khan

Balochistan lags behind from other provinces in terms of educational development where, according to Azat Foundation survey, the literacy rate is 33 per cent only. Against the backdrop of such circumstances, it is still safe to assume the affirmative picture of our society where our young generation is moving and struggling for the better and secured future. They have proven their mettle in every walk of life no matter how hard it is; both here and abroad.

The resourcefulness of the Punjab University (PU) administration led to reserve one seat in each and every department in order to quench the educational thirst of deprived youth of Balochistan where the facilities like accommodation of hostel and monthly stipend of 3,000 are also provided. There, at PU, students of Balochistan have shown remarkable approach both in studies and extra-curricular activities.

It was because of one of these students who obliged me to write this cover story. Khalil Murad hailing from Balochistan topped M.A Political Science in the overall Punjab. The very weak base of educational set-up and the conservative norms and values of our society didn’t stop him in pursuing his education and he did it with extraordinary academic credentials. More than ten students, until now, have been awarded Gold Medals from their respective departments. Because of the limited resources, I am unable to enlist each and every individual.

Jahanzaib Gul (Archaeology), FarhadWazir (Political Science), Farooq Khan (Sociology) Ahsamudin (Sociology), Behrooz Hakeem (History) are studnets from Balochistan who not only topped in their departments but their positive outlook towards life added a lot to the soft image of both our culture and province. Jameel Bugti and Saddam Shah, students of BS (Hons) Political Science, have showed excellent academic achievements besides various co-curricular activities like from being the class representative to winning quizzes, speech competitions etc.

Female students have also showed hard work and great deal of maturity in their respective fields. There are few names which I would like to mention who got first division in annual and semester examinations and that includes Mahnoor Sherani (Chemistry), Sami Rasheed (Zoology), Shakar Jan (Zoology), Sadia Pathan (Zoology), Irum (Mphil Physics), Athya Aslam (MBA), Zaiba Saeed (Bio-Chem) and Mahreen Sherani (Clinical Psychology).

According to some rough statistical data, there were approximately 10 students of Balochistan in 2012 that passed out in 2013. This estimation went to 25-30 students in 2015 but, now the range has been extended to hundreds of students who are currently enrolled in different departments of the University.

Eminent activities of students also include the establishment of two student councils I.e. Pashtun Educational Development Movement (PEDM) and Baloch Council which are working day and night to help and guide the upcoming students, and to ensure the productivity of the facilities being provided to them. Both have formulated their separate chapters of girls as well in accordance with the provision of better learning, socialization process and encouraging experiences with the outside world.

The purpose of both the councils is same which asks for the establishment of such a platform that will work for the welfare and prosperity of the people in order to have educational awareness. They believe in atmosphere of unity and democratization which they have exhibited in regular elections of their cabinets.

Indeed, both have played major role in providing helping hand to the students of Balochistan and they didn’t stop here. Their attainment list also includes other constructive activities like Welcome parties, Annual gatherings, Study Circles at Student Teacher Council (STC), Baloch and Pashtun nights, Annual Sports Gala and Culture Day etc.

PEDM was established in 2008 by a group of few students. Aslam Khan Sulaiman khel (MPhil Electronics) served as the first Chairman of PEDM. As far as the Baloch Council is concerned, the founder and Chairman is the very same person i.e. Touseef Noor (BS Electrical Engineering).

Balochistan is considered one of the dangerously polarized areas where finishing alienation of people and bringing them back in to the mainstream process, whether it is political, social or economic, is not an easy task. Surprisingly, the future still seems hopeful in form of these outstanding students who have not only developed sense of political participation but also know how to merge both the moderates and radicals, within the very same organization, skilfully. They always pursue specified mandate along with purposeful objective which is, actually, the need of the hour.

In a nutshell, our students have developed the formula of co-existence despite being belonging to different ethnic groups along with the spread of positive outlook of both the province and their respective culture. This soft image is the fruitful product of education which they attained through determination and hard work. Indeed, their efforts and zeal for learning helped them to bring change and overcome barriers which are still paved in the path of their tribal and political elites who could be found divided even on trivial issues.

Writer is a native of District Loralai and a student of Bsc (Honors) in Political Science from University of Punjab, Lahore.

پنجا ب یو نیو ر سٹی میں بلوچ طلباکی کا رکر دگی

ازت فاونڈیشن کے مطابق بلوچستان میں شرح خواندگی33فیصد ہے جو تعلیمی میدان میں بلوچستان کو دوسرے صوبوں کے مقابلے میں مزید پسماندہ رکھتی ہے۔ اس طرح کے دشوار حالات کے باجود بھی یہ کہنا سراسر دُرست ہوگا کہ ہمارے معاشرے کا نوجوان طبقہ اپنی کاوشوں کی بدولت معا شرے کی مستقبل میں ایک بہتر تصویر کشی کرنے میں کا میابی کی سیڑیاں طے کررہی ہے ۔ اس نوجوان طبقے نے نہ صرف قومی سطح پر بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی اپنی کامیا بی کے جھنڈے گاڑ دیئے ہیں۔
بلوچستان کے معیاری تعلیم سے محروم نوجوان بلوچ طُلبا کی تعلیم کی پیاس بجھانے کیلئے ، پنجاب یونیورسٹی کے انتظامہ نے ہر ایک شعبہ میں بلوچ طُلبا کیلئے ایک نشت محفوظ کردیا ہے جہاں ان طُلباء کو رہائش کے ساتھ 3000روپے ماہانہ و ظیفہ بھی دیا جاتا ہے۔
ان تمام سہولیات سے استفادہ حاصل کرکے یہ نوجوان طُلبا ء بھی نصابی اور غیر نصابی سر گرمیوں میں نمایا کردار ادا کررہے ہیں۔
مجھے اس تحریر کو لکھنے پر بھی مجبور کرنے والی ایک ایسے ہی طالبعلم کی نمایا کارکردگی ہے۔
خلیل مراد، ایک بد شکن اور پرُ عزم بلوچ طا لبعلم ،نے معاشرے کی تمام تنگ نظری اور رسموں سے کھینچی سرحدوں کو پار کرتے ہوئے شعبہ سیاسیات میں اپنا لوہا منواتے ہوئے پنجاب بھر میں اول پوزیشن حاصل کی۔
اس طرح تقریباََدس سے زائد طالبعلموں کو اپنے اپنے متعلقہ شعبوں میں کولڈ میڈلز سے نوازا گیا ہے۔
جہانزیب گل (شعبہ علم آثارِ قدیمہ)‘ فرہاد وزیر (شعبہ سیاسیات)‘ فاروق خان(شعبہ عمرانیات)‘احسام دین (شعبہ عمرانیات)اور حکیم بلوچ (شعبہ تاریخ) بلوچستان سے تعلق رکھنے والے طالب علم ہیں جو ناصرف اپنے اپنے متعلقہ شعبوں میں نمایا رہے بلکہ اپنے موثر طرزز ندگی کی بدولت ہمارے ثقا فت کو اُجاگر رکھا اور صوبہ کے معاشرتی تصویر کو مزید منفرد انداز میں پیش کیا ۔ شعبہ سیا سیات سے تعلق رکھنے والے طالب علم ‘ جمیل بگٹی اور صدام شاہ نے بھی نصابی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ اکیڈمک سر گرمیو ں جیساکہ کُویز اور تقریری مقابلوں میں بھی نمایاکا میابیاں حاصل کی ہیں۔
مَیل طلبا کے ساتھ ساتھ فیمیل طلبا ء نے بھی اپنے اپنے متعلقہ شعبوں میں بہترین کارکردگی کا مظاہر کیا ہے۔ منظور شیرانی ( کیمسٹری ) ‘ سمی رشید ( زولوجی) ‘ شکر جان ( زولوجی) ‘ سادیہ پٹھان (زولوجی)‘ آدم ( ایم فِل فزکس)‘ اطیہ اسلم ( ایم بی اے )‘ زیبا سعید (بائیو کیمسڑی ) اور مہرین شیرانی ( مکینکل سائکو لوجی) ‘ چند ایسے فیمیل طلباء کے نام ہیں جنہوں نے اپنے شعبوں میں سالانہ امتحان میں نمایا کارکردگی کا مظاہر ہ کیا ہے ۔
ایک اندازے کے مطابق 2012میں تقریبا با رہ اور 2015میں 25-30طلبا ء نے پنجاب یونیورسٹی سے اپنی علیٰ تعلیم مکمل کی اور اِس وقت یونیورسٹی میں داخل طلباء کی تعداد سینکڑوں میں ہے۔
یونیورسٹی میں دو تعلیمی کاؤنسلز کا قیا م جن میں پشتون ایجوکیشنل ڈیویلپمنٹ موومنٹ (PEDM)اور بلوچ طلباء کاؤنسل شامل ہیں جو دن رات آنے والے طلبا ء کی رہنمائی اور ممکن سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانے کی کوششوں میں مصروف رہتے ہیں ان طلباء کی کوششوں کا نتجہ ہے۔دونو ں کاؤنسلز کے لڑکیوں کے علیحدہ ونگز ہیں جو طلبا کی معیاری تعلیم ‘ معاشرتی تربیت اور باہری دنیا کے حوالے سے حوصلہ افزائی اور رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔
ان دونوں کا ؤنسلز کا قیا م اور مقصد طلبا ء کو تعلیمی لحاظ سے آگاہی فراہم کرنے کے مواقع اور اُنکی بہتری کیلئے جدوجہد کرنا ہے۔ یہ کاؤنسلز یکجہتی اور جمہوری نظام پر یقین رکھتے ہیں اور یہ عمل کاؤنسلز کے کا بینہ کے الیکشن کے دوران نمایا دکھائی دیتی ہے۔
یقینا، ان کاؤنسلز کی بلوچ طلباء کو مدد فراہم کرنے میں کاوشیں ناقابل فراموش ہیں ۔ تاہم یہ کاؤنسلز دیگر سرگرمیوں اور تقریبات کے قیام میں بھی پیش رفت رہتے ہیں جیساکہ ویلکم پارٹیز کا انعقاد‘ طلبا ء کا سالانہ اجتماع ‘ کھیل کے تقریبات کا انعقاد ‘ کلچر ڈے اور سٹوڈنٹ و ٹیچر کاؤنلسز میں تعلیمی مشاورت شامل ہیں۔
طلباء کے ایک گروہ ( اسلم خان اور سلمان خان کے ہمراہ )نے PEDMکی بنیاد رکھی جس میں اسلم خان اور سلمان نے کاؤنسل میں چیئر مین کا عہدہ سنبھالا۔اسطرح توصیف نوز نے بلوچ کونسل کی بنیاد ڈالی۔
بلوچستان ایک خطرناک صوبہ تصور کیا جاتا ہے جہاں لوگوں کی کراہت اور ناراضگی کو ختم کرکے اُنھیں درست سیا سی یا سماجی دائرے میں لانا ایک مشکل عمل ہے ۔حیران کن طور پر ان طلبا ء کی بدولت مستقبل پر امید دکھائی دیتا ہے کیونکہ ان طلباء نے ناصرف سیاسی شعور بیدار کیا بلکہ تنظیمی سطح پر معاملات کو ہنر مندی سے حل کرنا بھی سیکھ لیا ہے۔ ان طلبا کو کسی بھی حصول کیلئے ایک مخصوص اختیار کی ضرورت پڑتی ہے۔
مختصراََ، ہمارے طلباء نے بناء رنگ و نسل کے امتیاز کے ساتھ رہنا سیکھ لیا ہے جو صوبے اور اُن کے کلچر دونوں کی نمایا تصویرکشی کرتا ہے۔صوبہ کی یہ نمایا تصویر کشی ان طلباء کی کامیاب تعلیمی نتیجہ ہے جو اُنھوں نے اپنے محنت اور کاوشوں سے حاصل کی ہے۔ یقینا‘ ان طلباء کے پڑھنے کا جذبہ اور جدوجہد رُکاوٹوں کو ختم کرنے اور تبدیلی لانے میں کافی مددگار ثابت ہوئی ہیں۔