A healthy debate was generated in a two day seminar over whether negotiations should be conducted with the separatist Baloch leaders or all doors for talks should be shut down and the solution of Balochistan imbroglio is sought through ongoing operation, accelerating its pace against the militants.

The majority of speakers in seminar on the topic of peace and prosperity in Balochistan were of the opinion that the already initiated negotiation process with the disgruntled Baloch leaders should be expedited for bringing them into mainstream for durable and long lasting peace in the province.

The seminar held in a local hotel in Quetta last month was jointly organized by an NGO The Devote Balochistan and University of Balochistan with the support of Government of Balochistan and Pakistan Army. Army Chief General Raheel Sharif was the chief guest in the concluding session while Chief Minister Balochistan Nawab Sanaullah Zehri and Commander Southern Command Lieutenant General Aamir Riaz remained present in all sessions.

It was a good e ort on the part of Devote NGO and University of Balochistan to contribute towards the cause of restoring peace in the province. Famous anchor persons from different private TV channels and renowned columnists and journalists spoke on the occasion expressing their views over Balochistan problem and its possible solution. A number of people from different walks of life attended the session and the hall was jam packed for both days.

Army Chief General Raheel Sharif in his address in the concluding session said Balochistan has become a hotbed of proxy wars for regional and global powers pursuing a grand strategy. He said foreign adversaries were more than eager to exploit any opportunity to destabilize Pakistan by harboring, training and funding dissidents and militants.

تحریر: شہزادہ ذوالفقار

دو روزہ سیمینار میں ایک زبردست بحث چلی کہ آیا بلوچ علیحدگی پسندوں کے ساتھ مذاکرات کئے جائیں یا مذاکرات کے تمام دروازے بند کر دئیے جائیں، اور بلوچستان کی صورتحال کے حل کیلئے جاری آپریشن کی شدت بڑھائی جائے ۔اکثر مقررین کی رائے تھی کہ برہم بلوچ رہنماؤ ں کے ساتھ جاری مذاکرات متحرک کرکے پائیدار اور دیر پا امن کیلئے انھیں قومی دھارے میں شامل کیا جائے ۔ سیمینار گزشتہ دنوں کوئٹہ کے مقامی ہوٹل میں ایک این۔ جی ۔او (دی ڈی ووٹ) جامعہ بلوچستان با تعاون حکومت بلوچستان اور پاکستان آرمی منعقد کروایا گیا۔آرمی چیف جنرل راحیل شریف اجلاس کے اختتامی نشست میں صاحب صدر رہے ۔جبکہ وزیر اعلیٰ نواب ثناء اللہ اور کمانڈرسدرن کمانڈر لیفٹینٹ جنرل عامر ریاض اجلاس میں موجود رہے ۔

ڈیوووٹ این ۔جی ۔او اور جامعہ بلوچستان کی جانب سے بلوچستان میں قیام امن کے لیے ایک اچھی کوشش تھی ۔ مختلف نجی ٹی وی چینلز کے اینکر پرسن کالم نگار اور صحافیوں نے مسئلہ بلوچستان اور اسکے ممکنہ حل پر اپنے خیالات کا اظہار کیا ۔اجلاس میں ذندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی جبکہ ہال دو دن تک کچا کچ بھرا ہوا تھا ۔تقریب کے آخری نشت میں آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے خطاب کرتے ہوے کہا کہ بلوچستان بڑی حکمت عملی سے علاقائی و عالمی پر اکسی لڑائیوں کا گڑھ بن چکا ہے ۔انہوں نے کہا کہ بیرونی مخالفین شرپسندوں اور باغیوں کو پنا ہ و تربیت اور فنڈ دے کر پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے در پے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک جنگ ہے جو ہم سب لڑ رہے ہیں ،اور صوبے بھر میں قیام امن تک لڑتے ر ہیں گے ۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے اور بلوچستان کے عوام نے پاکستان کی سا لمیت غیر متزلزل عزم کے ساتھ حفاظت کی ہے ۔انہوں نے مذید کہا ’’دہشت گردوں کو بیرونی اور اندرونی سہولت حاصل تھی ۔

جنرل راحیل شریف نے کہا کہ بلوچستان میں اگست 2014 سے لیکر اب تک سکیورٹی فورسز نے 2400 سے زائد انٹیلی جنس آپریشن کئیے ہیں جن میں204 جانوں کی قربانی دی گئی ہے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ کہیں اور منتشر فصادات نے صوبے کو پیچیدہ مسائل کی طرف دھکیل دیا ۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ بنیادی ڈھانچے میں کمی ، غربت، صحت اور تعلیم کے ناقص سہولیات اور بڑھتی ہوئی بیروزگاری نے معاشرے کے نا خوش طبقے کے شکایات کو تقویت دی ۔

آرمی چیف نے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ طاقت کہ استعمال سے تکلیف اور تباہی کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا اور بلخصوص وہ جنکا ان میں کوئی ہاتھ نہیں ، مذید یہ کہا ریاستی ادارو ں اور لوگوں کی شمولیت بلوچستان کی خوشحالی کو بحال کرنے کیلئے درست راستہ ہے ۔نوجوان بلوچستان کا مستقبل ہیں اور پاک فوج صوبے کے 25000 نوجوانوں کو تعلیم کی فراہمی پر کام کر رہی ہے ۔

سابقہ وزیر اعلیٰ ، ڈاکٹر عبد المالک علیدگی پسندوں سے مذاکرات کے سرگرم حامی نے کہا کہ جب تک ناراض بلوچوں سے بات چیت نہیں کی جائے گی تب تک بلوچستان میں امن کا خواب پورا نہیں ہو سکتا اور مزید کہا ’’میں ان عناصر کے ساتھ مزاکرات کا بھر پور حامی ہوں اس حقیقت کے باوجود کہ مولا بخش دشتی سمیت انہو ں نے میری جماعت کے 5 رہنماؤں کا قتل کیا جبکہ 4 ابھی تک ین کے قبضے میں ہیں۔‘‘ انہوں نے کہا کہ میں جانتا ہوں کہ یہ رہنما ء بلوچستان کے موجودہ صورت حال میں اپنا کلیدی قردار ادا کر سکتے ہیں اور حکومت اپنے مقاصد حاصل کر سکتی ہے اگر ناراض عناصر واپس گھر لوٹ آئیں ۔ نیشنل پارٹی کے مقرر جو کہ تقریب کے اختتامی حصے میں غالب رہے نے کہا کہ اکبر خان بگٹی کے نواسے براہمداغ بگٹی و بی آر پی کے سربراہ سے جنیوا ، سوئزرلینڈ میں ملاقات اور اس کے پارٹی کے رکن اسمبلی کا خان سلیمان داؤد سے لندن میں بات چیت کا انکشاف کیا ۔انہوں نے کہا مزکورہ مشن کو عسکری اسٹیبلشمنٹ کی مددحاصل تھی اور مشاورات کی اطلاع بھی انہوں نے فراہم کیں ۔معروف تجربہ کار مجیب الرحمن نے ڈاکٹر عبدالمالک کے خیالات کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ثالثوں کو ایک موقع دیا جائے کہ وہ ناراض عناصر کو مزاکرات کے میزپر لائیں اس اُمید کے ساتھ کہ بات چیت نتیجہ خیز ثابت ہوں ۔

PML(Q)

کے سینیٹر مشاہد حُسین نے بھی بلوچ رہنماؤں سے بات چیت کے خیال کی حمایت کی ، لیکن صوبے میں امن کی بحالی کیلئے پاک فوج کے کردار کی تعریف بھی کی، اس اُمید کے ساتھ نواب ثناء اللہ زہری اُمیدوں پر پورا اترتے ہوئے اپنے دور اقتدار میں صوبے میں ترقیاتی کام کرینگے ۔

تا ہم حکومت کے حامی عناصر نے مزاکرات کے خلاف آواز اُٹھاتے ہوئے علحیدگی پسندوں کو دہشت گرد قرار دیا اور کہا کہ دہشتگرد رحم کے مستحق نہیں ہیں ۔انہوں نے کہا کہ اُن عناصر کی جرائم کی ایک لمبی فہرست ہے جو قومی اثاثو ں پر حملے ، بے گناہ شہریوں کے قتل ، سیکیورٹی فورسز کے قاتل معاف نہیں ہونے چاہیں ۔ ان میں وزیر داخلہ سرفراز بگٹی اور ترجمان حکومت بلوچستان انوارالحق کاکڑ بھی ممتاز تھے ۔ انہوں نے خیال سے اختلاف کیا ، اگر قابل توجہ ہو تو شر پسندوں کے خلاف کاروائی کی جائے جبتک آخری شرپسند باقی ہے ۔ مخالفین مہمان خاص جنرل راحیل شریف کو قائل کرتے ہوئے وفاقی حکومت کی ایسے اقدام کی بھی خلاف کوشش کررہے تھے ۔ انکے خیال میں ایسے مٹھی بھر عناصربیرونی مُلک یا پہاڑوں پر بیٹھے جن کی دشمن مُلک کی جانب سے سربراہی کی جا رہی ہے ، صوبے میں موجود ہ آپریشن سے کمزور ہو گئی ہے ۔ان کی رائے تھی کہ ناراض بلوچ رہنماؤں کو مراعات واپس لانا مردہ جسم میں جان ڈالنے کے مترادف ہے ۔

وزیر اعلیٰ نواب ثناء اللہ زہری ان رہنماؤں سے مزاکرات پاکستان کی حاکمیت تسلیم کرنے سے مشروط کیا اور دو ٹوک الفاظ میں بتایا کہ ریاست پاکستان پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا ، پاکستان اور بلوچستان دونوں ایک دوسرے پر منحصر ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہمارے سکیورٹی فورسز نے بلو چستان میں ترقی و امن کی بحالی کیلئے دہشتگردوں سے لڑتے ہوئے گراں قدر قربانیاں دی ہیں بلا شبہ بلوچ آبادی کی بڑی اکثریت پاکستان سے وفادار ہیں اور علیحدگی کا سوچھ بھی نہیں سکھتے جو چند گمراہ عناصر کی من مانی ہو سکتی ہے ۔

کمانڈر سدرن لیفٹینٹ جنرل عامر ریاض نے وزیر اعلیٰ بلوچستان کو امن کی بحالی اور ترقیاتی سرگرمیوں میں اپنی مکامل تعاون کا یقین دہانی کرتے ہوئے کہا کہ کسی کو بھی معصوم شہریوں کا خون بہانے اور ریاستی رٹ چیلنج کرنے کی اجازت نہیں دیں گے ۔ مزاکرات کے مخالف عناصر سے لگتا ہے کہ حکومتی پالیسی نے بلوچ رہنماؤں کو خود ساختہ جلا وطنی کے طرف بڑھایا ۔بلا شبہ صوبے بھر میں جاری آپریشن میں حکومتی رٹ کو بالخصوص بے قابو علاقوں میں بحال کردیا ہے لیکن حکومت کو لوگو ں کے اعتماد کو بحال کرنے کے لیے اقدامات لینا ہوگا ۔ حکومت اور فوج دونو ں گوادر پورٹ اور اقتصادی راہداری منصوبوں کی کامیابی کا عزم رکھتے ہیں لیکن ان منصوبوں میں صوبے کے حصہ آمدنی کا حصہ حصے کا تعین کیے بغیر اور ابھی تک مقامی لوگوں اور بلوچ آبادی کے حقوق کے لیے کوئی طریقہ مرتب نہیں کیاگیا اور نہ ہی ان کے اپنے ہی زمین پر اقلیت میں تبدیلی کے خوف پر کوئی توجہ دیا گیا ہوں ۔ بلوچوں اور اسلام آباد کے مابین عدم اعتماد ہے کیونکہ عام عوام میں مضبوط رجحان ہے کہی دہائیوں سے ان کے وسائل چھینے جا رہے ہیں ۔گوادر پورٹ کا اختیار بلوچستان کے حوالے کرنے کا مطالبہ حتیٰ کہ حکومتی حمایتی مرکز بلوچستان میں

PML(N)

کے اتحادی بی این پی عوامی اور نیشنل پارٹی کی جانب سے کیا گیا ۔ اگر حکومت گوادر پورٹ سی پی ای سی پر اتفاق چاہتی ہے تو اس مسلئے پر بیرونی ملک بیٹھے ہوئے بلوچ رہنماؤں اور اپوزیشن جماعتیں با لخصوص بی این پی مینگل جیس کی قیادت سردار اختر مینگل کر رہے ہیں ۔ سے مزاکرات کا آغاز کر دئے ۔حکومت کو مزاکرات مخالف کمزور آواز کے بجائے مزاکرات کے حق میں مضبوط آواز کی طرف توجہ دینا چاہیے ۔ہر طرح سے ممکن ہے کہ بلوچ قوم پرست گروہ متحد ہوں جیسے کہ انہوں نے مردم شماری ، گوادر پورٹ او سی پی ای سی پر کیا اور عوامی حمایت کے ساتھ مضبوط آواز بنے ۔

موجودہ صورتحال میں حکومت کو چاہیے کہ وہ مقامی لوگوں کو قائل کرنے کیلیئے سنجیدہ اقدام اٹھائے کہ انکے حقوق محفوظ ہیں اور اُن کو اپنے وسائل سے فائدہ پہنچے گا ۔ اس سلسلے میں قانون سازی ہو سکتی ہے اور گوادر سے ہونے والی آمدنی میں بلوچستان کے حصے کا تعین کرسکتی ہے ۔ ورنہ بلوچ آبادی میں احساس محرومی جو انھیں الگ تھلگ ہونے کا احساس دلاتی ہے ، کھبی ختم نہیں کیا جا سکتا ۔