With the passage of time everything is changing and this transition is a sign of vibrant societies.

As humans are broadening their mindset with the help of science, in the same way, they are also improving the facilities available to them.

Social media is the dearest product of Internet, whose name you must have been hearing. Existence of social media is an attempt to improve the relations of a human with another human as a social animal.

If you try to recall then your memory will surely tell you that in past people used to search for news and now news searches for people.

Whether you are in a village of Lasbela or a street of a Pishin, if you have a cell phone in your hands then you are connected to the world though Science.

Social Media has connected the people like they are members of the same house, who share each other’s joys and sorrows. Distances have shrunk and communications have improved.

At this moment, questioning whether the use of internet or social media is right or wrong, is a useless debate. The question is that in what ways Social media can be better used.

In societies like ours, in the beginning as always, a lot of apprehensions had to be faced but the facts, which come to light after a general review, about social media are positive.

In a province like Balochistan, where coverage of conventional media is restricted to few large cities; social media is effectively playing its role. We have seen that people are actively using the platform of social media to highlight their problems. Previously, it was witnessed that those people who had access to National TV channels, tried to be self-proclaimed representatives of Balochistan. Now, every person using social media is a voice and a channel.

Now, we have seen that people don’t wait for any leader to raise
their voice at concerned forums, because using a cell phone and internet they not only make their voice heard at national but also at international institutions.

Point to ponder is how people of Balochistan use these resources to make their voice heard and use the blessings of science as a positive change and be their voice.

Urgency of the times is that using technology as an effective source, we should compete with second world because it’s a platform where everyone is allowed to express their opinion on equal basis.

Social Media is a place where you get the chance to compete with the world on equity basis. We can take the example of Wasu, a man from Jaffarabad, who became a national-level TV celebrity in Pakistan within days after one of his videos, captured using a cheap mobile, went viral on internet.

Our young fellows must have to think that how social media platforms can be used to bring forward the voice of people of Balochistan? This voice can be about our problems or hidden talent in Balochistan.

Young fellows need to believe on the fact that we have to move
ahead of making excuses and blaming others and enter the field of competition. People don’t have a lot of time to listen to our problems therefore we can only achieve a distinction in the world if we are able to do something, despite all our problems, that leaves everyone speechless.

سوشل میڈیا اور بلوچستان۔۔۔۔

تحریر: قیصر رونجھا 
لسبیلہ ،بلوچستان

بدلتے وقت کے ساتھ سب کچھ تبدیل ہوتا جارہاہے اور اس تبدیلی کا وقوع پذیر ہونا ہی زندہ معاشروں کی نشانی ہے۔

جیسے جیسے انسان سائنس کی مدد سے اپنی ذہنی وسعتوں میں اضافہ کرتا رہا اسی طرح اپنے لئے موجود سہولتوں میں بھی بہتری لاتا رہا۔

انٹرنیٹ یا اس کی سب سے عزیز پروڈکٹ سوشل میڈیا، جس کا نام یقینی طور پر آپ بھی سنتے رہے ہونگے۔ سوشل میڈیا کا وجود انسان کا انسان سے بحیثیت سماجی جانور اپنے رابطے بڑھانے کی ایک کوشش ہے۔

اگر آپ تھوڑا یاد کریں تو آپ کی یاد داشت آپ کو یہ ضرور بتائے گی کہ پچھلے دور میں لوگ خبروں کی تلاش میں رہتے تھے اور اب خبریں لوگوں کو تلاش کرتی رہتی ہیں۔

ٓآپ چاہیں لسبیلہ کے کسی گاؤں میں ہوں یا پشین کی کسی گلی میں ہوں۔ اگر آپ کے ہاتھ میں موبائل ہے تو سائنس کے ذریعے آپ دنیا کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔

سوشل میڈیانے لوگوں کو ایسے جوڑا ہے جیسے سب ایک گھر کے افراد ہوں اور ایک دوسرے کے دکھ سکھ کے ساتھی ہوں۔ فاصلے سکڑ گئے ہیں اور رابطے بڑھ گئے ہیں۔ 

اس وقت یہ سوال کرنا کہ انٹرنیت یا سوشل میڈیا کا استعمال صحیح ہے یا غلط ،دراصل ایک فضول بحث ہے ۔اب سوال یہ ہے کہ سوشل میڈیا کو کس طرح بہتر انداز سے استعمال کیا جاسکتا ہے۔

ہمارے جیسے معاشروں میں ہمیشہ کی طرح ابتداء میں بہت سارے خدشات کا سامنا کرنا پڑا لیکن ابھی اگر ہم ایک عمومی جائزہ لیں تو جو حقائق ہمارے سامنے آرہے ہیں وہ مثبت ہیں۔

بلوچستان جیسا صوبہ جہاں روایتی میڈیا کادائرہ کار صرف چند بڑے شہروں تک محدود ہے، وہاں سوشل میڈیا بخوبی اپنا کردار ادا کر رہا ہے، ہم نے دیکھا کہ لوگ اپنے مسائل کو اجاگر کرنے کے لئے سوشل میڈیا کے پلیٹ فارم کا بھر پور فائدہ اٹھا رہے ہیں ، پہلے دیکھنے میں آتا تھا کہ وہ لوگ جن کی پہنچ قومی چینلز تک تھی وہ سب خود ساختہ نمائندے بن کر بلوچستان کا موقف دینے کی کوشش کر تے رہے ، لیکن اب سوشل میڈیا پر موجود ہر شخص ایک آواز ہے ،ایک چینل ہے۔

ہم نے دیکھا لوگ اب کسی رہنما کا انتظار نہیں کرتے کہ وہ ان کا مسئلہ ایوانوں تک پہنچائے مگر اب وہ خود ایک موبائل فون اور انٹرنیٹ کی بدولت اپنی آواز ملکی نہیں بلکہ بین الاقوامی اداروں تک پہنچاتے ہیں۔

غور طلب بات یہ ہے کہ بلوچستان کے لوگ کس طرح بہتر طور پر اپنی آواز کو آگے پہنچانے کے لئے ان ذرائع کا استعمال کرتے ہیں اور سائنس کی اس نعمت کو ایک مثبت تبدیلی کے طور پر بروئے کار لاتے ہیں ۔

حالات کا تقاضا یہ ہے کہ ٹیکنالوجی کو ایک موثر ذریعہ بناتے ہوئے ہم دوسری دنیا کے ساتھ مقابلے کی صف میں کھڑے ہوں، کیونکہ یہ ایک ایسی جگہ ہے جہاں سب کو اظہار خیال کرنے کے لئے برابر ی کی بنیاد پر حق ملتا ہے۔

سوشل میڈیا ایک ایسا میدان ہے جہاں سب کو برابری کی بنیاد پر دنیا سے مقابلہ کرنے کا موقع ملتا ہے ۔ اس کی ایک مثال ہم جعفر آباد سے شہرت پانے واسو کی لے سکتے ہیں جن کی ایک معمولی موبائل سے بنائی گئی ویڈیو نے انٹرنیٹ پر دھوم مچادی اور کچھ ہی دنوں میں وہ پاکستان کی ٹی وی سلیبرٹیز میں شمار ہونے لگے۔

ہمارے نوجوان ساتھیوں کو یہ ضرور سوچنا ہوگا کہ سماجی رابطے کے ان پلیٹ فارمز کو استعمال کرتے ہوئے کس طرح بلوچستان کے لوگوں کی آواز کو آگے لایا جاسکتا ہے ؟یا وہ آواز ہمارے مسائل کی ہو یا بلوچستان میں چھپے ٹیلنٹ کی ہو۔ 

نوجوانوں کو اس بات پر یقین کرنے کی اشد ضرورت ہے کہ ہم نے بہانوں اور مورد الزام ٹہرانے سے آگے بڑھ کر مقابلے کے میدان میں آنا ہوگا، چونکہ دنیا میں لوگوں کے پاس شاید اتنا وقت نہیں ہے کہ وہ ہمارے مسائل سنتے رہیں ، اس لئے ہم دنیا کے سامنے تب ہی ایک پہچان بنا سکتے جب ان سب حالات کے باوجود کچھ ایسا کر پائیں کہ دنیا حیران رہ جائے۔