Saindak, which is a small town based in Balochistan’s largest Chagai district, contains abundant ore reserves. In the 1970s, it is said that a Chinese engineering firm discovered the deposits of copper at the site of Saindak project. Later on, in the 1975, its feasibility study kicked off. But, in the 1995, Saindak copper and gold project was set up by Saindak Metals Ltd (SML), a company wholly owned by the government of Pakistan, and they could not unfortunately run the project. As a result, in 2002, the government of Pakistan had to hand over the mining project to the Metallurgical Corporation of China (MCC). Since then, the MCC has been working at the site.

Though the MCC has been extracting gold and copper for over a decade, it has not so far yielded a good return to Pakistan in general and Balochistan in particular. The reasons are that the Chinese company, which, according to media reports take 75 per cent, the federal government takes 23 per cent, and the Balochistan government takes 2 per cent. Here, the question raises, what is the percentage of the common people of Balochistan?

This time, although the provincial government of Balochistan is run by a middle class Baloch nationalist, no remarkable changes have been witnessed. As usual, the people of Balochistan are the sufferers. When it comes to the Saindak project, the provincial government of Balochistan also seems complainant that they do not get their due share. But, in recent years, The MCC Resources Development Limited (MRDL) working on the Saindak Cooper and Gold mining project said on Thursday it had paid $39.8m to the Balochistan government on account of royalty over the past 10 years from the Saindak project. A spokesman for the MRDL owned by the Chinese government, also said the company had provided Rs10 million for restarting the Saindak project and Rs. 15 million as the working capital. So where has amount gone? Are not our own leaders responsible for this?

However, the provincial government has been seeking ownership of the Saindak project, while the Center has flatly refused to let it be owned by the Balochistan government until 2018. Also, it was stated in a paper that from 2003 to 2013, an estimated 177,036 million tons of blister copper was extracted from Saindak and sold for around $1.6 billion by the SML. Some $269 million – half of the proceeds Pakistan received – were kept under the head of profit and lease rent, they revealed. Around $17 million went to the head of presumptive tax and $8 million was kept by the federal government as development
surcharge. Balochistan only received $9 million from the $1.6 billion sale.

What is more surprising is to know about the pitiable condition of employees of the Saindak project, as they always go on strike. Even, they do not get clean drinking water, let alone their other anguishes. Due to non-availability of clean drinking water, the employees suffer from diseases. An employee of the Saindak project told this scribe that he had been suffering from kidney problems, which is why he had to go to Quetta for treatment. In recent weeks, they also went on protest for being provided poor quality food. One of the employees of Saindak copper and gold project said while talking to Balochistan Inside, “Despite performing our duties honestly and punctually, the administration of Saindak project is least bothered about us. He went on to add that they suffer from diseases, like stomach ulcers and blood pressure, etc.

Moreover, some say they do not want to go on protest, as they are afraid for their jobs. But, they further say, when they see their colleagues protesting, they also join them. Unfortunately, after two or three months, one can find the employees of the Saindak project protesting. Besides it, their salaries are not handsome, as well as they hardly have holidays. Despite these all injustices, their demonstrations and rightful demands do not come on the media. When they want to give press releases, theses also do not come in local newspapers, as local newspapers’ owners do not want to upset the administration of the project. That is why the employees of the Saindak project have been suffering.

Unfortunately, the provincial government of Balochistan, too, has kept silence over the ill-treatment of the employees of Saindak project, which is meted out to them by its administration. But it is the responsibility of the provincial government to take notice of it, so that the employees of the project should get rid of the woes.

سیندک کا منصوبہ اور اس کے ملازمین

تحریر : محمد اکبر نوتزئی
مترجم : منیبہ محمود 

سیندک بلوچستان کے سب سے بڑے ضلع چاغی کا ایک چھوٹا سا قصبہ ہے جس میں کثرت سے خام لوہے کے ذخائر پائے جاتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ 1970 کی دہائی میں ایک چینی انجینئرنگ فرم نے سیندک کے مقام پر تانبے کے ذخائر دریافت کئے۔ بعدازاں 1975 میں اس کی فزیبلٹی اسٹڈی شروع ہوئی۔ لیکن 1995 میں حکومت پاکستان کی ملکیت شدہ کمپنی سیندک میٹلز لمیٹڈ نے سینڈک کاپر اور گولڈ پروجیکٹ کا افتتاح کیا لیکن بدقسمتی سے وہ اس منصوبے کو چلا نہیں سکے ۔ جس کے نتیجے میں سال 2002 میں حکومت پاکستان نے کان کنی کے اس منصوبے کو میٹالرجیکل کارپوریشن چائنا (ایم۔سی۔سی) کے حوالے کردیا گیا تھا۔اس وقت سے ایم سی سی اس جگہ پر کام کر رہی ہے۔

اگرچہ ایم سی سی ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے سونے اور تانبے کو نکال رہی ہے ، لیکن پاکستان میں بالعموم اور بلوچستان میں بالخصوص اس حوالے سے اب تک کوئی اچھے نتائج برآمد نہیں ہوئے ۔ ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق اس کی وجہ یہ ہے کہ چینی کمپنی اس سے 75 فیصد لیتی ہے، وفاقی حکومت 23 فیصد لیتی ہے اور بلوچستان حکومت 2 فیصد لیتی ہے۔ یہاں سوال یہ ابھرتا ہے کہ بلوچستان کے عوام کو کتنا فیصد ملتا ہے؟

بلوچستان میں اس بار متوسط طبقے کے قوم پرست کی جانب سے حکومت چلائی جارہی ہے تاہم ابھی تک کوئی قابل ذکر تبدیلی سامنے نہیں آئی ہے۔ ہمیشہ کی طرح بلوچستان کے عوام مصیبتیں برداشت کررہے ہیں۔ جب سیندک منصوبے کی بات ہوتی ہے تو صوبائی حکومت بھی شکایت کرتی ہے کہ اس کو متوقع حصہ نہیں ملتا۔ لیکن حالیہ سالوں میں ایم سی سی ریسورسز ڈیولپمنٹ لمیٹڈ (ایم آر ڈی ایل )، جو گزشتہ 10 برسوں سے سیندک میں تانبے اور گولڈ کی کانوں کے منصوبے کام کررہی ہے ، نے بتایا کہ وہ رائلٹی کی مد میں صوبائی حکومت کو 39.8 ملین ڈالر ادا کرچکی ہے۔ چینی حکومت کی ملکیت میں شامل کمپنی کے ترجمان نے بتایا کہ سیندک منصوبے کو دوبارہ شروع کرنے کے لئے کمپنی نے 10 ملین روپے اور سرمائے کے طور پر 15 ملین روپے فراہم کئے۔ تو پھر یہ رقم کہاں گئی ؟ کیا ہمارے اپنے رہنما اس کے ذمہ دار نہیں ؟ 

صوبائی حکومت سیندک منصوبے کی ملکیت حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے تاہم مرکز نے 2018 تک صوبائی حکومت کو ملکیت دینے سے صاف انکار کردیا ہے ۔ایک اخباری رپورٹ کے مطابق سیندک سے سال 2003سے 2013 کے درمیان اندازا 1 لاکھ 77 ہزار 36 ملین ٹن جزوی ریفائن شدہ تانبہ نکالا گیا اور ایس ایم ایل کی جانب سے 1.6 ارب ڈالر میں بیچ دیا گیا۔ اس آمدن سے پاکستان کو تقریبا 269 ملین ڈالر حاصل ہوئے جو منافع اور لیز کرائے کے کھاتے میں رکھے گئے تھے ۔تقریبا 17 ملین ڈالر پری سمپٹو ٹیکس کی مد میں دیئے گئے جبکہ 8 ملین ڈالر وفاقی حکومت نے ترقیاتی سرچارج کے طور پر اپنے پاس رکھ لئے تھے۔ بلوچستان کو 1.6 ارب ڈالر کی فروخت سے محض 9 ملین ڈالر حاصل ہوئے۔ 

سیندک منصوبے پر اس سے زیادہ قابل تعجب بات سینڈک منصوبے کے ملازمین کی قابل رحم حالت کے بارے میں آگہی ہے، جو ہڑتال پر جانے پر مجبور ہیں ۔ یہاں تک کہ انہیں پینے کا صاف پانی فراہم نہیں ہوتا ، دیگر تکالیف تو الگ ہی رہنے دیں۔ پینے کے صاف پانی کی عدم دستیابی کی وجہ سے ملازمین مختلف بیماریوں کا شکار ہوجاتے ہیں۔ سیندک منصوبے کے ایک ملازم نے یہ بتایا کہ وہ گردے کے مسئلے سے دوچار ہے ، اس لئے اسے علاج کیلئے کوئٹہ جانا پڑے گا۔ حالیہ ہفتوں میں گندا کھانا فراہم کرنے کے خلاف بھی ملازمین احتجاج پر چلے گئے۔ سیندک منصوبے میں کام کرنے والے ایک ملازم نے بتایا کہ ایمانداری اور پابندی سے اپنے فرائض کو انجام دینے کے باوجود سیندک منصوبے کی انتظامیہ ہمارے لئے بالکل بھی فکر مند نہیں ہوتی۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ لوگ مختلف بیماریوں کا شکار ہیں جیسے پیٹ کا السر اور بلڈ پریشر وغیرہ۔

مزید برآں ، کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ احتجاج کرنا نہیں چاہتے ، کیونکہ انہیں اپنی ملازمتیں چھوٹ جانے کا خدشہ ہوتا ہے۔ تاہم ان کا مزید کہنا ہے کہ جب وہ اپنے ساتھیوں کا احتجاج دیکھتے ہیں تو وہ بھی ان کے ساتھ شامل ہوجاتے ہیں۔ بدقسمتی سے اب دو تین مہینے بعد ہی کوئی ملازم احتجاج کرتا نظر آتا ہے۔ اس کے علاوہ ان کی تنخواہیں بھی انتہائی کم ہیں جبکہ انہیں چھٹیاں بھی بمشکل ملتی ہیں۔ ان سب ناانصافیوں کے باوجود ان کے مظاہروں اور جائز مطالبات کو ذرائع ابلاغ میں بالکل جگہ نہیں دی جاتی ۔جب وہ اخبار کے لئے کوئی پریس ریلیز فراہم کرتے ہیں تو وہ بھی مقامی اخبار میں نہیں چھپتی کیونکہ مقامی اخبار کے مالکان سیندک منصوبے کی انتظامیہ کو پریشان کرنا نہیں چاہتے۔ اسی وجہ سے سیندک منصوبے کے ملازمین مشکلات کا شکار ہیں۔ 

انتہائی افسوس ناک بات یہ ہے کہ بلوچستان کی صوبائی حکومت نے بھی سیندک منصوبے کے ملازمین کے ساتھ ہونے والے ناروا سلوک پر خاموشی اختیار کی ہوئی ہے۔ لیکن یہ صوبائی حکومت کی ہی ذمہ داری ہے کہ وہ اس بات کا نوٹس لے تاکہ اس منصوبے میں کام کرنے والے ملازمین کو پریشانیوں سے نجات ملے۔