The coastal area of Balochistan is stretched over 780 kilometres. The picturesque coastal belt of Balochistan is stretched from Hub to Gwadar where it touches Iranian border. As Balochistan might seem insipid without its beautiful coastal belt and mineral resources, truly, the coastal belt of Balochistan may well seem incomplete without fishermen living there.

Historical folk tales remind us of the fact that whether it is coastal area of Balochistan or Karachi, which is known as the heart of Pakistan, these areas where first dwelled by the fishermen and were brought to life by fishermen. As fishing enjoys a historical importance, boating, for catching fish, equally retains an immense importance as an industry. In vast oceans, the fishermen, with the help of these boats, leave for searching their livelihood.

People in Gadani, Pasni, Ormara and Gwadar are linked to their ancestral profession of boating till today. Boating in fish industry retains much importance. In Gwadar Padi Dar is considered important for boating making but it is declining gradually.

‘Like fish industry, the boating is also near to decline. If fishermen are not happy with their business, how the boating industry will develop and how the people related to the industry will see expansion in their business,’ Says Rahim Baksh, a resident of Padri Dar.

Mr. Zarif Baloch is also concerned about decline of boating industry. According Mr.Zarif, the people of Pasni have been reliant on this industry for centuries, unfortunately, with the passage of time due to the fish industry without getting developed; the people related to the industry are deprived of basic facilities.

‘Throughout the world the boat-making art has involved a lot of modern machinery, however, in Balochistan, the process includes ancient process of making boats with hand,’ Zarif Baloch highlights the technological backwardness in boat-making process.

According to a social activist in Gwadar, Gwadar has become apple of everyone’s eye while CPEC has been termed the jewel in the crown for development in Gwadar. However, the development and progress for the people associated with boating industry have been futile.

‘Today, if we speak about the Gwadar port we make Singapore and Dubai ports examples. With the establishment of single ports in both countries, the life of the people has completely changed. On the other hand, though the inflation in Gwadar has increased, yet increase in the wages of skilled people associated with the boating industry is stagnant,’ Mr. Rahim wonders.

Mr. Rahim who is member of Fishermen Union regrets on the illegal fishing by the trawlers which come from other cities. ‘How could we compete with these trawlers with our boats? These trawlers come across from other cities and fish in our areas illegally,’ Rahim regrets on the plight of fishermen in Pasni. He further says that if fishermen do not get into business how could they buy boats for fishing?

During a visit to Gwadar, one can see different type of boats being made along with road sides. People associated with this craft have been doing this job for centuries. These boats include both small and large boats. The small boats are called Awro and Adar and large boats are also made here. People making the boats are involved in this profession for many generations.

According to a labourer working there, the craft to curve out boats from strong wood is not an easy task. Daily wages range from 600 to 1000, yet it is too insufficient to compensate our hard working.

‘Because my father had been associated with this work, due to poverty and lack of education I have associated myself to this art too. And, now I am unable to provide my children with proper education,’ he describes his compulsion.

These boats are often made by contractors. For this the expensive wood is used for making base of the boats. However, to import this wood far from Karachi, it needs much time and money both owing to which labourers are denied their deserving wage as if labourers were chosen to be inflicted upon.

According deputy general secretary of Gwadar Port Labour Society, while making these boats, the factor of durability is of much concern as these boats often face strong storms and many lives of labourer are also associated with the durability of the boats.

‘Balochistan accounts for 70 per cent of the total coastal area of Pakistan whereas Sindh retains only 30 per cent of the total coastal area. However, lack of technological advancement involved in this industry, is cause of the decay for both industry and people,’ says deputy general secretary Gwadar port Labour Society.

Currently in Gwadar, billions of rupees are consumed in small and unworthy seminars. If boats industry, which is back bone of the city, is neglected, the growing vacuum between Balochistan, federal government and people of Balochistan cannot be decreased.

It is high time for the incumbent government to make Gwadar have access to imported wood from Burma. When this wood reaches to Makran, it will decrease waste of time and will ensure profit. Further, it will also help ease woes of labourer associated with boating industry along with providing them with basic facilities such as accommodation, health and education as ensured by the labourer laws; because a developed Gwadar is only possible if the people of Gwadar are prosperous.

 

بلوچستان کا ساحلی علاقہ780کلو میٹرسے بھی زیادہ طویل ہے۔ حب سے لے کر گوادر اور پھر ایران کے باڈر تک اس ساحل کا حسین جال بچھا ہوا ہے۔ جس طرح بلوچستان اپنے اس خوبصورت اور وسائل سے بھرپورو نایا ب خزانوں سے مالا مال ساحل کے بغیر ادھودا ہے اسی طرح یہ ساحل یہاں بسنے والے ماہی گیروں کے ذکر کے بغیر ادھوری ہے۔
تاریخ اور لوک داستانیں ہمیں بارہا یہ بتاتی ہیں کہ چاہیے وہ بلوچستان کے ساحلی علاقے ہوں یاکراچی شہر جوپاکستان کا دل کہلائے جانے والا شہرہے اس سے وابستہ مقامی مچھیروں سے ہی ہے۔
جس طرح ماہی گیری کے شعبے کو تاریخی اہمیت حاصل ہے ٹھیک اسی طرح کشتی سازی بھی ایک اہم صنعت کا درجہ رکھتی ہے۔
ان کھلے سمندروں میں ماہی گیر اپنی کشتیوں کے سہارے اپنے رزق کی تلاش کو نکلتے ہیں۔
گڈانی، پسنی ،جیونی ،اورماڑہ یا پھر گوادر یہاںآج بھی مقامی افراد کئی صدیوں اور پُشتوں سے کشتی سازی کے شعبے سے منسلک ہیں۔ کشتی سازی کوفشنگ انڈسٹری میں خاص اہمیت حاصل ہے۔
گوادر میں قائم ’’پدری در‘‘ کو کشتی سازی کے حوالے سے کافی اہم سمجھا جاتاہے۔ پدری درمیں موجود رحیم بخش نے بتایا کہ ماہی گیری کے شعبے کی طرح کشتی سازی بھی زوال کا شکارہے اور اگر ماہی گیر اپنے کاروبار سے خوش نہیں ہوگاتو کس طرح ممکن ہے کہ کشتی سازی کی صنعت کو ترقی ملے گااور اس سے جڑے لوگوں کے روزگار میں کسی قسم کی کوئی ترقی آئیگی۔
بس میں موجود مقامی ظریف بلوچ کا کہناہے کہ پسنی کا علاقہ اس قدیم صنعت سے صدیوں سے منسلک ہے مگر افسوس وقت کے ساتھ جدّت نہ آنے کی وجہ سے آج بھی اس صنعت سے وابستہ افراد بنیادوں سہولتوں سے محروم ہیں۔
ظریف نے مزید بتایا کہ دنیا بھر میں کشتی بنانے کے اس فن میں نئی نئی ٹیکنالوجی کا استعمال ہوتاہے جبکہ بلوچستان کے ساحلی علاقوں میں آج بھی کشتیاں چھوٹی ہوں یا بڑی انسانی ہاتھوں سے قدیمی طریقوں سے تیار کی جاتی ہیں۔
گوادر میں موجود ایک سماجی رہنما کے مطابق آج گوادر سب کے نظروں کا مرکز بن گیا ہے ۔سی پیک کو پاکستان اور گوادر پورٹ کااہم جز قرار دیا جاتاہے مگر افسوس یہاں رہنے والے خاص طور پر ماہی گیراور کشتی سازی کی صنعت سے وابستہ افرادکے حقوق وتر قی کا نام و نشان نہیں ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ آ ج جب ہم گوادر پورٹ کی بات کرتے ہیں تو حوالہ سنگاپوراور دبئی پورٹ کاحوالہ دیا جاتاہے۔ انھوں نے کہا کہ ان ممالک میں پورٹ کے قیام نے سب سے پہلے وہاں بسنے والے لوگوں کی زندگیاں تبدیل کیں آ ج وہ کہاں سے کہاں پہنچ گئے ہیں۔
اس نے مزید کہاکہ آج ہمارے شہر کی مہنگائی میں کئی گنا اضافہ ہوگیاہے مگر اس ہنر سے وابستہ افرادکی اجرت وہی کی وہی ہے۔
رحیم بخش جو ماہی گیروں کی یونین سے وابستہ ہیں انھوں نے کہا کہ ہم غریب مچھیرے اپنی کشتیوں سے بھلا ان غیر قانونی ٹرالروں کا کیا مقابلہ کر سکتے ہیں جو کہ دوسرے شہروں سے آکر ہمارے حق اورہماری روزی پر ڈاکا ڈالتے ہیں۔رحیم بخش نے مزید کہا کہ جب ماہی گیروں کا کا روبارہی نہیں ہوگا تو بھلاوہ کسطرح کشتیاں خریدے گا۔
اسطرح آپ کا اتفاق گوادر جانے کا ہوا تو ’’بروڈ‘‘ میںآ پ کو مختلف اقسام کی کشتیاں بنتی نظر آئیگی چھوٹی کشتیاں ہو ں یا بڑی جسے مقامی زبان میں’’اوڑو‘‘ یا پھر’’ادار‘‘کہا جاتاہے ان سے لے کر بڑی کشتیوں کی تیاری نظر آئیگی اور ان کشتیوں کو بنانے والے افراد کئی نسلوں سے اسی روزگار سے منسلک ہیں۔
یہاں کام کرنے والے ایک مزدور نے ہمیں بتایاکہ روزانہ کی اجرت چھ سو روپے سے لے کر چند ہزار تک ہے ہاتھوں سے مضبوط لکڑیوں کو کشتیوں کا رنگ دینا آسان کا م نہیں اور نہ ہی اس سے ملنے والی اجرت ان کے اس ہنر کاصلہ ہے مگر چونکہ اس کے اپنے والد اسی شعبے سے وابستہ تھے اور غربت کے باعث تعلیم نہ حاصل کرنے کی وجہ سے مجبورََا اسے بھی اسی روزگار کو اپنانا پڑااور آ ج وہ خود اپنے بچوں کو تعلیم دینے سے قاصرہے………
یہ کشتیاں عمومََا ٹھیکدار تیار کرتے ہیں اور اسی حوالے سے ان کا کہناہے کہ کیکر (مقامی لکڑی)سے لے کر ’’شاگ‘‘(بڑی کشتیوں میں بنیادکے طور پر استعمال کی جاتی ہے کافی مہنگے داموں پر دستیاب ہوتی ہے اور دوسری طرف کراچی سے اُن لکڑیوں کو بلوچستان کے ساحل تک پہنچانے میں رقم اور وقت دونوں زیادہ لگتاہے۔جس کی وجہ سے مزدورں کو وہ اجرت نہیں دے پاتے جس کا وہ حق رکھتے ہیں گویا زیرِعتاب صرف مزدور کی گردن کو ہی آناہے۔۔۔۔۔
گوادر پو رٹ لیبر سوسائیٹی کے نائب جنرل سکریٹری مالک بلوچ کا کہنا ہے کہ قدیم اور روایتی طریقوں سے تیار کردہ ان لانچوں میں مضبوطی کا خاص خیال ر کھاجاتاہے کیونکہ ان کشتیوں کو اکثر اوقات کئی طرح کے طوفانوں کا سامنا کرنا پڑتاہے اور اس میں کئی ماہی گیروں کی زندگیاں ان کشتیوں کی مضبوطی سے جڑی ہوتی ہے۔
مالک بلوچ نے مزید بتایا کہ پاکستان میں موجود کوسٹل لائن میں سندھ30%جبکہ بلوچستان کا ساحل 70%سے زائد ہے. جدید ٹیکنالوجی کی عدم دستیابی کی وجہ اس صنعت اور اس سے وابستہ افراد کی معاشی بد حالی کی وجہ ہے۔
گوادر جس پر آ ج دنیا بھر کی نظریں جمی ہوئی ہیں ۔ کئی چھوٹے ،بڑے سمیناروں میں کروڑں روپے خرچ کئے جاتے ہیں۔اگر ماہی گیر ی کی صنعت اور کشتی سازی جوکہ گوادرکی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔توجہ نہ دی گئی تو مقامی سطح پر وفاق اور بلوچستان عوام کے درمیان خلیج کسی طورپرکم نہ ہوپائے گی۔حکومت وقت کو چاہیے کہ برما سے امپورٹ کی گئی لکڑیوں کو گوادر پورٹ تک بھی رسائی دی جائے۔ جب یہ لکڑیاں مکران کے ساحلی علاقوں تک پہنچ جائے گی۔اسطرح وقت اور منافع بھی ممکن ہوسکے گی اور ساتھ ساتھ ماہی گیروں اور کشتی سازی سے وبستہ افراد کیلئے لیبرقوانین کے مطابق دی گئی بنیادی سہولتیں جیسے رہائش، تعلیم و صحت کاحق ممکن بنائے کیونکہ گوادر کی ترقی وہاں کے مقامی لوگ اور خوشحالی سے وابستہ ہے۔