Special campaign Community Health Volunteers are launched to administer polio vaccination in Balochistan, where young volunteer women are paid to continue work throughout the month. These anti polio vaccinating teams are busy in the Pakistan Afghanistn bordering town of Chaman.

Laster in November, four polio workers including three women were sprayed with bullets in the capital city of Balochistan, later the attack was claimed by Jandullah Marwat, a splinter Taliban group.

Balochistan Provincial Coordinator Emergency Cell official Dr. Saifur Rehman that 51 Union Councils were on high risk of polio virus as the said virus is found in the environment samples of Quetta and Killa Abdullah district of Balochistan. Polio campaign would target 1.2 million children in six districts of the province from 28th May.

Polio campaign is started from 18 May and it was officially till 20th of May, owing to security reasons Quetta is covered into two phase, Anwar Bugti World Health Organization representative told.

A UNICEF official in Quetta told on the condition of anonymity, as he’s not authorized speaking to media, “Every campaign misses 21000 children in Balochistan”.

Many families are reluctant to vaccinate their children across the urban pockets of Quetta, told a female worker, Shagufta Khan. Most of these families are either linked to Pakistan’s religious parties or impressed by the verdicts of Mullah, religious prayer leaders busy denouncing polio vaccination through speakers, Friday sermons and public gatherings, she told.

“Some of these families are too hard even not allowing their children to be vaccinated after multiple meetings with social organizers, community leaders, opinion leaders and health officials”, says Shagufta.

Abdul Khaliq, 27, has three children below the age of 5, he has never vaccinated any of them for a single time. “These foreigners are not here for our safety from being crippling. They only use these campaigns to slow down the birth rate among Muslims”.

Otherwise many of our people die owing to heart attacks and other illnesses why no one care those elder people, said Khaliq.

Farida, 20, is busy administering polio vaccine to children below 5 age. As she passes through the muddy walls of the town, with a little bag not having only polio vaccine. “We are given extra tablets, syrup for cough and flue. We have to show ourselves as health professionals helping these communities not only vaccinating their children”.

She should vaccinate 50 children a day, and work five days a week as Community Health Volunteer Farida revisit those homes where children are not available during first or second round of polio team, she told. “And this process goes on for long periods”.

A UNICEF official in Quetta told on the condition of anonymity, as he’s not authorized speaking to media, “Every campaign misses 21000 children in Balochistan”.

Polio is only politicized after the Osama Binladen, assassination in Abbottabad, that’s reported later to be traced in a fake Hepatitis campaign, told Dr. Aftab Khan, a health official leading the polio vaccination campaign in district Killa Abdullah. “The death of health workers, volunteers, security guards in militant groups attack has boosted the unauthentic propaganda of militant religious organizations”.

People were not against polio earlier, now the militant attacks have made it a subject circulated in local and national media that boosts people fear, Nasir Khan, 40, a local elder told. “In Quetta, the measles vaccination killed children now nobody dares to administer polio they think it’s having poisonous reaction”.

Baran Khan, was once reluctant to administer his children, but later he came to know that some of the Mullahs from his village themselves inaugurated the polio campaign in the area he live in. “We follow our prayer leaders in all walks of our lives, when they launch a ban on polio vaccine we stop, but now they have started to vaccinate children themselves so I am no more against vaccinating my children”.

A team leader who is want to be named anonymously because he’s not authorized speaking to media, “you see how would we administer children, we are totally in fear any time we can come under attack of militant wings. Not a single security man is provided to me and my team members”.

Whereas Jamaluddin, 55, a levies (local tribal security force) personnel guarding polio team is angry over not being paid either by international NGOs or an extra stipends by government of Pakistan, nor insured being on adventurous polio campaigns. “I have taken the risk and play on my life securing polio teams but what will happen if I lose my life, who’ll look after my little children?”

Farida said, they are now paid on time because earlier delays in payments disheartened volunteers and they didn’t take interest in their work. “This new plan Community Health Volunteer pays monthly salary so these motivate workers to do their job properly”.

بلوچستان میں پولیو مہم کی صورتحال
اپنے آپ کو پولیو سے محفوظ بنائیں

ملک اچکزئی 

بلوچستان میں پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کی سماجی مہم کمیونٹی ہیلتھ والنٹیئرز کی جانب سے شروع کی جاتی ہے جس میں نوجوان رضاکار خواتین کو مہینے بھر کام کرنے کے بدلے ادائیگی کی جاتی ہے۔ پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے والی یہ ٹیمیں فی الوقت پاک افغان سرحدی قصبے چمن میں مصروف عمل ہیں۔ 

گزشتہ سال نومبر میں تین خواتین سمیت چار پولیو ورکرز پر بلوچستان کے دارلحکومت میں بے رحمانہ انداز سے گولیوں کی بوچھاڑ کردی گئی ۔ اس حملے کی ذمہ داری بعد ازاں طالبان سے الگ ہونے والے گروپ جند اللہ مروت نے قبول کی۔ 

بلوچستان کے صوبائی کوآرڈینیٹر ایمرجنسی سیل کے افسر ڈاکٹر سیف الرحمان کے مطابق 51 یونین کونسلوں میں پولیو وائرس کے خطرے کی سطح انتہائی بلند ہے کیونکہ یہ وائرس بلوچستان کے شہر کوئٹہ اور ضلع قلعہ عبداللہ کے ماحولیاتی نمونوں میں پایا گیا ہے۔ 28 مئی سے شروع ہونے والی پولیو مہم میں چھ اضلاع کے 12 لاکھ بچوں کو ویکسین پلانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ 

عالمی ادارہ صحت کے نمائندے انور بگٹی نے بتایا کہ کوئٹہ میں سیکورٹی خدشات کے باعث پولیو مہم دو مرحلوں میں کی جائے گی جس کا آغاز 18 مئی اور اختتام 20 مئی کو ہوگا۔ 

یونیسیف کے ایک افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ہر مہم کے دوران بلوچستان میں 21 ہزار بچے پولیو سے بچاؤ کی ویکسین سے محروم رہ جاتے ہیں۔ 

ایک خاتون ورکر نے بتایا کہ کوئٹہ شہر کے مختلف مقامات پر بہت سے خاندان ویکسین پلانے پر ہچکچاتے ہیں۔ ان میں سے بیشتر خاندان یا تو پاکستان کی مذہبی جماعتوں سے وابستہ ہیں یا پھر کسی مولوی کے فتوے سے متاثر ہیں۔ یہ مولوی اپنی تقریروں، جمعہ کے خطبات اور عوامی اجتماعات میں پولیو ویکسین کی مذمت میں مصروف ہیں۔ 

شگفتہ نے بتایا کہ ان میں سے بعض خاندان اتنا سخت رویہ اختیار کرتے ہیں کہ سماجی منتظمین، علاقائی رہنماو مقامی رہنما اور محکمہ صحت کے حکام سے مختلف ملاقاتوں کے بعد بھی اپنے بچوں کو ویکسین پلانے کی اجازت نہیں دیتے۔ 

27 سالہ عبدالخالق کے تین بچے ہیں جن کی عمریں پانچ سال سے کم ہیں اور اس نے ایک بار بھی اپنے بچوں کو ویکسین نہیں پلوائی ۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ غیرملکی معذوری سے ہماری حفاظت کے لئے یہاں نہیں آئے ۔ یہ اس طرح کی مہمات کو استعمال کرکے مسلمانوں کی شرح پیدائش میں کمی کرتے ہیں۔ 
ورنہ بہت سے لوگ دل کے دورے سمیت دیگر بیماریوں سے مرجاتے ہیں اور ان بڑی عمر کے لوگوں کی پروا کیوں نہیں کی جاتی۔ 

20 سالہ فریدہ پانچ سال سے کم عمر بچوں کو پولیو ویکسین پلانے کے انتظام میں مصروف ہے۔ جیسے ہی وہ اپنے چھوٹے بیگ کے ساتھ اس قصبے کی مٹیالی دیواروں سے گزرتی ہے تو اس کے بیگ میں صرف پولیو کی ویکسین نہیں ہوتی۔ فریدہ نے بتایا کہ ہمیں اضافی طور پر گولیاں، کھانسی و نزلے کے سیرپ دیئے جاتے ہیں۔ ہمیں اپنے آپ کو عوام کے سامنے ماہرین صحت کے طور پر باور کرانا پڑتا ہے کہ صرف ویکسین کی فراہمی کے ذریعے ہی ان لوگوں کی مدد نہیں کی جارہی ہے۔ 

فریدہ نے بتایا کہ کمیونٹی ہیلتھ ورکر کے طور پر اس کو ہفتے میں پانچ دن یومیہ 50 بچوں کو ویکسین دینی ہوتی ہے، وہ ان گھروں میں جاتی ہے جب مہم کے پہلے اور دوسرے راؤنڈ میں بچے گھر پر موجود نہیں تھے اور یہ عمل طویل عرصے تک جاری رہتا ہے۔ 

بلوچستان کے ضلع قلعہ عبداللہ میں پولیو سے بچاؤ کی ویکسین کی مہم چلانے والے محکمہ صحت کے افسر ڈاکٹر آفتاب خان نے بتایا کہ پولیو کا مسئلہ ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کے قتل کے بعد سیاسی شکل اختیار کرگیا جس میں بعد ازاں یہ بات سامنے آئی کہ اس کے لئے ہیپا ٹائٹس کی جعلی مہم چلائی گئی۔ عسکریت پسند گروپوں کے حملے میں محکمہ صحت کے لوگ، رضاکار اور سیکورٹی گارڈز کی ہلاکت نے مذہبی عسکریت پسند تنظیموں کے غیرمصدقہ پروپیگنڈے میں جان ڈال دی ہے۔ 

40 سالہ علاقائی رہنما ناصر خان نے بتایا کہ لوگ پہلے پولیو کے خلاف نہیں تھے لیکن اب عسکریت پسندوں کے حملوں نے اسے مقامی اور قومی ذرائع ابلاغ پر زیر بحث بنادیا ہے جس سے لوگوں میں خوف بڑھا ہے ۔ کوئٹہ میں خسرے کی ویکسین سے بچوں کی ہلاکت ہوئی اور اب کسی میں ہمت نہیں کہ وہ پولیو مہم چلائے کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ اس سے منفی ردعمل آرہا ہے۔ 

باران خان جو پہلے اپنے بچوں کے لئے پولیو کی ویکسین سے ہچکچاتے تھے لیکن بعد ازاں ان کے علم میں یہ بات آئی کہ ان کے گاؤں کے بعض علماء نے اس علاقے میں پولیو مہم کا افتتاح کیا جہاں وہ رہائش پذیر ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ہم اپنی تمام زندگی میں اپنے امام کی پیروی کرتے ہیں۔ جب انہوں نے پولیو ویکسین پر پابندی کا آغاز کیا، ہم رک گئے لیکن اب انہوں نے بچوں کو ویکسین پلانے کا سلسلہ شروع کیا، اس لئے اب میں بھی کسی بھی طرح اپنے بچوں کو ویکسین پلانے کا مخالف نہیں ہوں۔ 

اپنی مشکلات کے بارے میں ٹیم کے ایک رہنما نے نام ظاہر نہ کرنے شرط پر بتایا، کیونکہ اسے میڈیا پر بات کرنے کی اجازت نہیں ہے، کہ آپ دیکھیں ہم کیسے بچوں کا انتظام کریں، ہم مکمل طور پر خوف زدہ ہیں اور کسی بھی وقت عسکریت پسند گروپوں کے حملوں کی زد میں آسکتے ہیں۔ میں اور میری ٹیم ارکان کی حفاظت کے لئے ایک بھی گارڈ فراہم نہیں کیا گیا۔ 

پولیو ٹیم کی حفاظت پر مامور ایک لیوی اہلکار (مقامی قبائلی سیکورٹی فورس) 55 سالہ جمال الدین اس بات پر ناراض ہے کہ ان کو نہ تو بین الاقوامی این جی اوز کی جانب سے ادائیگی کی جارہی ہے اور نہ ہی حکومت کی جانب سے کوئی اضافی وظیفہ نہیں دیا جارہا ہے اور نہ ہی پولیو کی خطرناک مہموں کے لئے انشورنس بھی نہیں کی جارہی۔ “میں نے پولیو ٹیموں کی حفاظت کے لئے اپنی جان خطرے میں ڈال لی ہے لیکن اگر میری جان چلی جاتی ہے تو اس کے بعد کیا ہوگا اور کون میرے چھوٹے بچوں کا خیال رکھے گا؟

فریدہ نے بتایا کہ ان کو اب وقت پر ادائیگی کی جارہی ہے کیونکہ پچھلی ادائیگیوں میں تاخیر نے بہت سے رضاکاروں کو دلبرداشتہ کردیا اور انہوں نے اپنے کام میں دلچسپی نہیں لی۔ صحت رضاکاروں کے اس نئے منصوبے کے تحت انہیں ماہانہ تنخواہیں دی جاتی ہیں جس سے رضاکاروں کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے تاکہ وہ مناسب انداز سے اپنا کام کریں۔

SHARE
Previous articleAghaKhanis
Next articleAbdul Quddus Bizenjo