“Hate crime not the criminal!”

“Hate crime not the criminal!” Those who use this phrase are obviously not aware of the state of jails in Pakistan. A prisoner irrespective of how bigger crime he has committed is still a human being. Therefore one of the main reasons for establishment of jails is to reform the prisoners.

Gaddani jail was established in the year 2002 and even now it’s just an area covered by a boundary wall and not a proper prison. There are no proper barracks in Gaddani Jail which result in security, health and other issues for prisoners. Mach Jail is a model jail if compared with Gaddani Jail.

Mir Sarfraz Bugti, Provincial Minister for Home and Tribal Affairs, criticized the previous governments for ignoring security arrangements in jails. He told Balochistan Inside that 5 jails in Balochistan are very sensitive and face problems of security. In 2016 the situation is same as before and still there is no proper security in Gaddani Jail. He further added, “I have written to the provincial government to increase funds for Jails. In the currently available funds, we can only raise the boundary walls of Quetta jail.” He added that the government should increase funds for jails so that fool proof security arrangements can be made to protect the lives of prisoners and jail staff.

Due to lack of CCTV cameras in the Jail, it’s not possible to prevent the habitual prisoners from abusing those prisoners who are young and have committed accidental crimes.

“no one is born as a criminal but the societal, psychological and economic issues make them criminals”

Superintendent of Gaddani Jail, Ishaque Zehri, told Balochistan Inside that lack of scanning equipment for visitors is a security threat. Frisking the visitors thoroughly and checking the stuff which they bring for prisoners is a herculean task and we are not equipped to perform it e effectively, added Mr. Zehri. He said that he had written to government to procure such equipment for the jail.

When anyone visits the Gaddani jail then they can witness that the security staff deployed for checking of the visitors are busy in peeling vegetables and cooking food and not concerned about their duties.

Jail Superintendent further added that lack of water and electricity, which are basic human need, is a major problem in the Gaddani jail. Gas supply is not provided to the Jail and therefore, Prisoners cook their food on daily basis using woods.

Strength of prisoners in Gaddani Jail is 380 at the moment and it reaches 400 at times. Currently, there are 108 patients of Hepatitis and 9 patients of Aids in Gaddani Jail who are serving their terms as prisoners.

According to the Jail administration, there are no facilities available for the treatment of the patient prisoners. Last year in October, a blood screening test was conducted in the jail which revealed the illness in the prisoners but there is lack of paramedical staff and budget for treatment of these prisoners in Gaddani Jail.

Therefore, most of the prisoners suffering from such illnesses die natural death in the Prison. It’s not less than a shock to know that there is not a single lady doctor available in the Gaddani jail for the female prisoners housed in the prison.

It’s often said that no one is born as a criminal form the womb of their mother but the societal, psychological and economic issues make them criminals.  In the prisons all over the world, doctors are available to treat the prisoners suffering from mental tension and depression. They not only treat their illnesses but also provide an environment where the prisoners could be reformed and made better citizens. However no such facility is available for the prisoners in the jails of Balochistan.

Unlike Karachi Jail and other prisons there is no facility of vocational training available in Gaddani Jail.  According to sources, in none of the 11 prisoners of Balochistan there are no facilities of skill development available for prisoners. Jail administration blames the provincial government for this problem. Government, just like always, is following the policy of “leave it as it is.” In such a situation, jail is nothing more than a punishment itself for the prisoners.

’’جیل مقام اِصلاح یاصرف ایک سزا

کہا جاتا ہے کہ ’’جرم سے نفرت کرو مجرم سے نہیں‘‘ یہ فقرے کہنے والے نے غالباً پاکستان میں موجود جیلوں کا احوال نہیں سنا ہوگا قطع نظر اس کے کہ اس نے کتنا ہی بڑا جرم کیوں نہ کیا ہو بہرحال ایک انسان ہے اور قانون میں جیل کے قیام کا ایک خاص مقصد وہاں موجود قیدیوں کی اصلاح ہے۔

گڈانی جیل کا قیام 2002 کے اوائل میں ہوا اگر ہم اس جیل کے احاطے کا موزانہ دوسری جیلوں سے کریں تو یہ بات واضح ہوجائے گی کہ یہ جیل صرف ایک چار دیواری کی حیثیت رکھتی ہے مناسب بیرکس کی عدم موجودگی نہ صرف سیکورٹی، صحت بلکہ اس کے ساتھ ساتھ دیگر مسائل کو جنم دیتی ہے البتہ اگر ہم مچھ جیل کی بات کرے تو عمارت کی مناسبت سے وہ بلوچستان بھر میں ایک ماڈل جیل کی حیثیت رکھتا ہے۔

موجودہ وزیر داخلہ سرفراز بگٹی نے اپنے عہدے پربراجمان ہوتے ہی پچھلی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے یہ بیان دیاتھا کہ بلوچستان کی پانچ جیلیں انتہائی خستہ نوعیت کی ہیں اور انہیں سیکورٹی کے سخت مسائل درپیش ہیں اور صورتحال کو سنگین قرار دیا تھا کیونکہ ان تمام جیلوں میں حفاظتی اقدامات کو یکسر نظر انداز کیا گیاہے۔ آج 2016 اور صورتحال جوں کی توں ہے گڈانی جیل میں آج بھی سیکورٹی کے انتظامات ناقص ہیں۔ وزیر داخلہ سے اس سلسلے میں جب رابطہ کیا گیا تو انھوں نے جواب دیا میں انتظامیہ کو لکھتارہتا ہوں تاہم اس ضمن میں فنڈز کی اشد ضرورت ہے جو فنڈز ہمیں دیئے گئے اس سے ہم صرف کوئٹہ جیل کی دیوار اونچی کرسکے انتظامیہ کو چاہئے کہ جیلوں کی سیکورٹی کے فنڈز جاری کریں تاکہ ہم جیل کے اندر موجود عملے اور قیدیوں کی جانوں کی مکمل حفاظت کرسکیں۔

دوسرا سنگین مسئلہ CCTV کی عدم دستیابی ہے۔اس صورت حال کے پیش نظر یہ ممکن نہیں کہ جیل میں موجود عادی جرائم پیشہ افراد سے حادثاتی جرائم میںآنے لوگوں کو اور خصوصاً نوعمر یا کمسن بچوں کو کسی قسم کی زیادتی سے بچایا جاتا اور ان پر نظر رکھی جاسکتی ۔

گڈانی جیل میں تعینات جیل سپرنٹنڈنٹ نے مزید تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ چیکنگ کے سیکورٹی آلات کا نہ ہونا جیل کے عملے کیلئے ایک اہم مسئلہ ہے ملاقاتیوں کی جامعہ تلاشی اور ان کی جانب سے اپنے قیدیوں کیلئے لائی گئی اشیاء کی چیکنگ انتہائی مشکل عمل ہوتا ہے اور اس ضمن میںیاددہانی کے باوجود انتظامیہ تا حال مکمل طور پر غافل ہے۔

قارئین جب خدانخواستہ آپ کا جانا گڈانی جیل ہو تو وہاں زمین پر بیٹھے عملے کی جانب یقیناًنگاہ جائے گی جو کہ چھری کی مدد سے سبزیوں کو کاٹ کر اپنے چیکنگ کے فرض سے سبکدوش ہو۔

سپرنٹنڈنٹ کے مطابق جیل میں بجلی اور پانی ایک اہم مسئلہ ہے اور یہ ہر زندہ انسان کی اہم ضرورت ہے اور گیس جیل میں سرے سے موجود ہی نہیں۔ ’’قیدی روزانہ کی بنیاد پر اپنا کھانا لکڑیوں پر پکاتے ہیں۔ گڈانی جیل میں اس وقت قیدیوں کی کل تعداد 380 ہے جو کہ 400 تک چلی جاتی ہے اس وقت جیل میں موجود ہیپاٹائٹس کے 108 مریض اور ایڈز کے 9 مریض شامل ہیں۔

جیل کی انتظامیہ کے مطابق یہاں اس قسم کے امراض کیلئے کسی بھی قسم کے علاج معالجے

کی سہولت موجود نہیں ہے پچھلے سال اکتوبر کے مہینے میں

Blood Screening

کے ذریعے ان میں موجود مختلف امراض کا پتہ چلا مگر ناکافی پیرامیڈیکل اسٹاف اور جیل کے بجٹ میں اس طرح کے مریضوں کے علاج کیلئے کسی قسم کی کوئی سہولت موجود نہیں تو گویا امکان یہی ہوتا ہے کہ اس مرض میں مبتلا قیدی کی طبی موت واقع ہوجائے۔

ستم ظرفی کہ جیل میں قید خواتین قیدیوں کے لئے کسی قسم کی کوئی لیڈی ڈاکٹر موجود نہیں۔ ہم اکثر یہی سنتے ہیں کہ انسان کبھی ماں کے پیٹ سے مجرم پیدا نہیں ہوتا کئی معاشرتی نفسیاتی اور معاشی مسائل انسان کو جرم کرنے پر مجبور کردیتے ہیں اور ایسے افراد قید میں ہوں تو اکثر وہ ڈپریشن کا شکاررہتے ہیں دنیا بھر کی جیلوں میں ذہنی دباؤ کا شکار مریضوں کیلئے ڈاکٹرز موجود ہوتے ہیں جو کہ نہ صرف ان کے ڈپریشن کا علاج کرتے ہیں بلکہ ان عوامل پر بھی ان سے ملاقاتیں کرتے ہیں جن سے قیدیوں کی اصلاح کی جاسکے مگر بلوچستان کی جیلوں میں موجود قیدیوں کیلئے اس قسم کی کوئی سہولت موجود نہیں ہے۔

کراچی اور ملک کی دیگر جیلوں کے برعکس گڈانی جیل میں قیدیوں کیلئے کسی بھی قسم کے تربیتی مراکز ، ووکیشنل ٹریننگ سینٹر موجود نہیں بلکہ ایک اطلاع کے مطابق نہ صرف گڈانی جیل بلکہ بلوچستان میں موجود11 جیلوں میں

Skill Development

جیسی کوئی سہولت موجود نہیں جیل کے اعلیٰ حکام اس ذمہ دار ی سے غافل اور انتظامیہ ہمیشہ کی طرح جیسا چل رہا ہے چلنے دوکی پالیسی اختیار کئے ہوئے ہے اور ایسی صورتحال میں جیل صرف ایک سزا ہی بن کر رہ جائے گی۔