On September 8, 1958, government of Pakistan bought Gwadar city from Sultanate of Oman worth of 8,400,000 US dollars with a 20,000 population under an agreement.

Under the agreement, the people of Gwadar were termed national of Sultanate of Oman and were given the right of dual nationality. Upon which, thousands of people adopted the nationality of Oman and settled in Oman and other Gulf countries like Bahrain, Qatar and Dubai. At that time, the financial situation was not good in Oman that’s why people went to other Gulf countries. But the present king after coming into power issued a royal decree that those people who behold Oman’s nationality but they are living in other countries, they must come back otherwise their passports would be cancelled. Besides, some privileges were also announced for them, upon which, people residing in other countries started to settle to Musqat. Those people having Omani nationality holder but residing in Gwadar also arrived at Musqat.

Mullah Ghulam Rasool is of the view that when Gwadar is included into Musqat, the economic conditions of Musqat were not good. Poverty level was also high. Oil was not explored that are the reasons many people did not apply for Musqat’s passport. Its fee was only Rs 5 and Rs 10 only. On this occasion thousands of people secured the future of their children by getting passports. The children of these people are well educated and employed in various key government departments. Two brothers, Babu Ghulam Muhammad and Khaleel Ahmed, who belong to Gwadar, were used to be included in Oman’s national football team and they have showed their impressive performance during international matches. Similarly, there are Balochs people employed in majority in Musqat Army, banks, telecommunications and all other departments. Majority of working in banks actually belong to Gwadar.

There were two people appointed for representation of localpeople at the time of Gwadar’s inclusion into Musqat, Mullah Ghulam Rasool said, while adding, these representatives keep an eye on the passport related matters who belong to Gwadar and passports are issued with their verification. He said the level of sanitation system of city was quite good. At that time, a functional port in Gwadar too, where ships used to arrive at here from Basra, Kuwait, Karachi, Mumbai and other countries. Trade was in the hands of Hindus and Ismailis. But people used to come from different parts of Makran on the camel caravans and return with grains and fishes.

Around 65 percent population of Oman is Baloch and 25 of percent of them belong to Gwadar. Majority of population in the Capital of Oman, Muskat, is Baloch. Also, there is a majority of Baloch population in the Batina province. In addition to, majority of Baloch population in Rovi, Mabila, Hail, Hitat Valley, Adi Valley, Seeb as well who belong to Gwadar. In the Zahira province there are majority of Irani Balochs who have been residing here for generations. But they speak less Balochi language and more Arabic but they main Baloch customs. There is a large number of Balochresiding in Musqat who not only belong to Gwadar but also from Makran and Iran as well. The Baloch from Iran settled in Musqat two centuries ago in which Jadgal, Raisi, Hoti and other tribes are included. Baloch custom is followed on the wedding occasions. Baloch women wear their cultural dresses and Balochi language is spoken in houses. Males wear Arabic dresses and speak in both languages, Arabic and Balochi. They feel privileged to introduce themselves as people of King Qaboos and say him Wajah. They don’t tolerate any negative talk against King Qaboos.

Older people of Gwadar proudly wear the cap with Omani style. The famous Halwa of Gwadar is reminiscent of the era of Oman.
Some food items are prepared in Gwadar which are not available in other parts of Makran.

Right now the Baloch are employed in high ranks of ministries and the army. Advisor to King Qaboos Bin Saeed for Finance and Development ministry is a Baloch. Army chief is also a Baloch, Muhammad Baloch says from Musqat. He tells that Baloch population is in majority but they feel themselves proud as Omani citizen. Youth also feel this proud. A large number of Baloch boys and girls is getting education from colleges and universities.

The Omani governance on Gwadar brought bilateral affects on the lifestyle and culture of both areas, says Khuda Buksh Hashim. Older people of Gwadar proudly wear the cap with Omani style. The famous Halwa of Gwadar is reminiscent of the era of Oman. Some food items are prepared in Gwadar which are not available in other parts of Makran. Hashim thinks that the behavior and attitude of Gwadar people is quite different as compare to other areas of Makran. May be, the reason could be based on social and cultural relation. The old construction in Gwadar seems to be reminiscent of Omani style buildings. It is also present in the form of Gwadar fort and it’s Burj. Gwadar fort also used to be a police station for a long time. However it was restored in 2007 through a special grant by Omani government and it was formed into a museum with the name of Makran Cultural and Heritage Museum. It’s land is still considered the property of Oman. Similarly, some other buildings are also considered under Omani government ownership in which residences, old and modern forts are among of them.

گوادر اور سلطنت آف عمان 

تحریر : بہرام بلوچ

 ۔8ستمبر، 1958ء میں 20ہزار پر مشتمل آبادی کے شہر گوادر کو حکومت پاکستان کی جانب سے سلطنت آف عمان سے ایک معاہدہ کے تحت 8,400,000 امریکی ڈالرمیں خریدا گیا۔

معاہدے کے تحت گوادر کے عوام کو سلطنت آف عمان کی رعایا قرار دیتے ہوئے گوادر کے شہریوں کو دہری شہریت رکھنے کا حق دیا گیا تھا۔ جس پر ہزاروں افراد نے سلطنت آف عمان کی شہریت اختیار کر کے سلطنت آف عمان اور دیگر خلیجی ممالک بحرین،قطر اور دبئی کا رخ اختیار کیا۔ اس وقت چونکہ سلطنت آف عمان کی معاشی حالت اچھی نہ تھی اس لئے لوگ روزگار کیلئے دیگر خلیجی ممالک میں چلے گئے ۔لیکن موجودہ فرمانروا سلطان قابوس کے برسراقتدار آنے کے بعد ایک شاہی حکم جاری کیا گیا کہ جن لوگوں کے پاس سلطنت آف عمان کی شہریت ہے اور وہ دیگر ممالک میں مقیم ہیں وطن واپس آجائیں بصورت دیگر انکے پاسپورٹ منسوخ کر دیئے جائینگے۔ ان کیلئے کئی مراعات کا اعلان بھی کیا گیا جس پر غیر مما لک میں مقیم گوادر سے تعلق رکھنے والے افراد مسقط واپس پہنچنا شروع ہو گئے گوادر سے بھی وہ لوگ جن کے پاس سلطنت آف عمان کی شہریت تھی، مسقط پہنچے ۔

ملا غلام رسول کہتے ہیں کہ اس وقت جب گوادر کو مسقط میں شامل کیا جا رہا تھا ، مسقط کے معاشی حالات درست نہیں تھے غربت یہاں کی نسبت زیادہ تھی ، تیل دریافت نہیں ہوا تھا اس لیئے کئی لوگوں نے مسقط کے پاسپورٹ حاصل نہیں کئے ۔ پاسپورٹ فیس صرف دس اور پانچ روپیہ تھا جبکہ دیگر ہزاروں لوگوں نے پاسپورٹ حاصل کر کے اپنے بچوں کے مستقبل کو محفوظ بنایا اور جو گوادری آج مسقط میں مقیم ہیں زندگی کے تمام سہولتیں انہیں میسر ہیں انکے بچے اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں اور مختلف اہم سرکاری عہدوں پر فائز ہیں دو بھائی بابو غلام محمد اور خلیل احمد جن کا تعلق گوادر سے ہے عمان کی قومی فٹبال ٹیم میں شامل رہے ہیں اور بین الاقوامی میچز میں سلطنت آف عمان کی نمائندگی کر کے اچھے کارکردگی کا مظاہرہ کرچکے ہیں۔ اسی طرح مسقط آرمی ،بینکوں،ٹیلی کمیونیکشن ،سمیت تمام محکموں میں بلوچ بھاری اکثریت میں برسرروزگار ہیں۔ بینکوں میں اکثریت گوادر سے تعلق رکھنے والے بلو چوں کاہے۔

ملا غلام رسول کے مطابق گوادر کو مسقط میں شامل کرتے وقت یہاں کے لوگوں کی نمائندگی کیلئے دو نمائندے مقرر کئے گئے ۔ یہ نمائندے گوادرسے تعلق رکھنے والوں کے پاسپورٹ کے معاملات کی نگرانی کرتے ہیں اور انکی تصدیق سے پاسپورٹ جاری کئے جاتے ہیں۔ ملا غلام رسول بتاتے ہیں کہ اس وقت شہر کی صفائی کا نظام بہتر تھا۔ بلدیہ فعال تھی اور امن و امان مکمل کنٹرول میں تھا ۔صرف سات عرب سپاہی شہر کے امن وامان کے پاسبان تھے۔ اس وقت بھی گوادر ایک فعال بندرگاہ تھا جہاں بصرہ ، کویت،کراچی،ممبئی اور دیگر مما لک سے بحری جہاز آتے تھے۔ تجارت ہندوؤں اور اسماعیلیوں کے کنٹرول میں تھی۔ مکران کے تمام علاقوں سے لوگ اونٹوں کے کاروان میں آتے تھے اور یہاں سے اناج اور مچھلیاں لیکر جاتے تھے۔ 

مراد بلوچ کہتے ہیں کہ سلطنت آف عمان کی65%آبادی بلوچ ہے۔ ان میں سے 25%سے زیادہ کا تعلق گوادر سے ہے ۔سلطنت آف عمان کے دارالحکومت مسقط کی اکثریتی آبادی بلوچ ہے ۔صوبہ باطنہ میں بلوچ زیادہ تعداد میں آباد ہیں۔ روی،مابیلہ،ہیل،وادی حطاط،وادی عدی،سیب seeb،میں بلوچ اکثریتی تعداد میں آباد ہیں جن کا تعلق گوادر سے ہے ۔صوبہ زاہراہ میں ایرانی بلوچوں کی آبادی زیادہ ہے جو کئی پشتوں سے آباد ہیں ۔لیکن وہ بلوچی کم اور عربی زیادہ بولتے ہیں جبکہ بلوچی رسم ورواج بر قرا ر رکھے ہوئے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ مسقط میں گوادر کے علاوہ مکران اور ایران سے تعلق رکھنے والے بلوچوں کی بڑی تعداد آباد ہے جو دو صدی پہلے ایران سے مسقط میں آباد ہو گئے تھے جن میں جدگال ،رئیسی ،ہوتی اور دیگر قبائل شامل ہیں۔ شادی بیاہ میں بلوچی رسم ورواج برقرار ہیں ،خواتین بلوچی ڈریس پہنتی ہیں اور گھروں میں بلوچی زبان میں بات چیت کی جاتی ہے ۔ مردحضرات عربی لباس پہنتے ہیں بلوچی اور عربی دونوں زبان میں بات کرتے ہیں۔ اپنے آپکو سلطنت آف عمان کا شہری اور فرمانرواء سلطان قابوس کا رعیت کہتے ہوئے فخر محسوس کرتے ہیں اور سلطان قابوس کو ,,واجہ،، کہتے ہیں۔ سلطا ن قابوس کے خلاف کسی بھی بات کو برداشت نہیں کرتے ۔ 

مسقط سے محمد بلوچ کے مطابق سلطنت آف عمان میں اس وقت بلوچ وزارت سے لیکراعلیٰ آرمی عہدوں پر فائز ہیں ۔ مسقط کے فرمانروا ء سلطان قابوس بن سعید کے مشیر برائے فنانس اینڈ ڈیولپمنٹ بلوچ ہیں۔ چیف آف آرمی بھی بلوچ ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ یہاں پر مقیم بلوچ آبادی اکثریت میں ہیں۔ لیکن وہ اپنے آپکو عمانی تصور کرتے ہوئے فخرمحسوس کرتے ہیں ۔ بلوچی رسم و رواج کے مطابق اپنی شادی بیاہ کرتے ہیں اپنی ثقافت کا دن بھرپور طریقہ سے مناتے ہیں۔ نوجوان نسل اپنے آپکو بلوچ کہتے ہوئے فخر محسوس کرتے ہیں۔ یونیورسٹیوں اور کالجز میں بلوچ لڑکے اور لڑکیاں بڑی تعداد میں زیر تعلیم ہیں۔ 

خدابخش ہاشم کہتے ہیں کہ گوادر پر عمانی حکمرانی نے دونوں علاقوں کی طرز زندگی اور ثقافت پر دو طرفہ اثرات ڈالے ہیں۔ گوادر کے بزرگ عمانی انداز کی ٹوپی فخر سے پہنتے ہیں۔ گوادر کا مشہور حلوہ عمانی دور کی نشانی ہے۔ جبکہ گوادر میں بعض ایسے پکوان اب بھی تیار ہوتے ہیں جو مکران کے دیگر علاقوں میں دستیاب نہیں ۔ خدابخش ہاشم سمجھتے ہیں کہ گوادر کے لوگوں کا مزاج اور رویہ بھی مکران کے دیگر علاقوں سے قدرے مختلف ہے۔ جس کاایک سبب شاید عمان سے ان کا دیرینہ سماجی اور ثقافتی تعلق بھی ہے۔ گوادر کی پرانی تعمیرات میں اب بھی عمانی طرز تعمیر سے مماثلت نظر آتی ہے۔ گوادر میں عمانی دور کی تعمیرات گوادر قلعہ اور گوادر کے قلعہ کے برج کی صورت میں موجود ہیں۔ گوادر قلعہ طویل عرصے تک پولیس اسٹیشن کے طور پر استعمال ہوتا رہا تاہم 2007 میں اسکو عمانی حکومت کی خصوصی گرانٹ کے ذریعے بحال کیا گیا اور اب یہ مکران کلچرل اینڈ ہیریٹیج میوزیم کے نام ایک میوزیم بنادیا گیاہے۔ جس کی زمین اب بھی عمان کی ملکیت سمجھی جاتی ہے۔ اسی طرح گوادر میں بعض دیگر تعمیرات بھی عمانی حکومت کی ملکیت سمجھے جاتے ہیں جن میں والی گوادر کی رہائش گاہ، گوادر کی قدیم اور جدید قلعے شامل ہیں۔