Ayaz Khan




From Layari street football team’s inimitable win to the achievements of Nargis Mavalwala, from Aisam-ul-Haq’s ground-performance to Amir’s stinging punches, nation’s pride keeps soaring. With the celebrations of Misbah-ul-Haq’s 50th splendiferous test-match captaincy to Ahmed Mujtaba’s glorious victory in Mixed Martial Arts (MMA), the nation, intoxicated by moments of pride, seemes elated. Such is the nation’s frantic behaviour to encompass all individual efforts into a self-made basket of pride and joy and the basket of pride, with the passage of time, keeps getting filled with individual efforts—in arts, education, science, health or sports.After all ceremonious events end, skilled individuals—in arts, education, science, health or sports—are left alone to once again, with their own meagre resources to struggle for pride and glory.

Ours is the country full of natural resources. Ours is the country full of human potential. Ours is the country full of emerging-skilled players—cricket, football and hockey etc. But, these all statements seem dull as the Pakistani talent truly means an individual effort to achieve an objective, particularly in sports, either depending on luck or relying on social/media in order to get into limelight.

Recently, aUfone advertisement has brought such a talent to limelight, which deserves the utmost concentration yet, for the first time. Mr.Fazal Baloch, an international football player from Balochistan’s Khuzdar district, is highlighted as a focused character of advertisement, enjoying Ufone’s “unmatchable” services.

“First of all, I thank to Ufone for choosing me for an advertisement.Ithas highlighted my talent which has been rusting since I have been awarded the dub,Fazal international,” says Fazal.

Fazal Baloch (aka Tikku) hails from a small town known as Kanak that lies against a mountainous spell few kilometres away from the main city of Khuzdar. The dwarf and dark-skinned Fazal, a magical football player, had worked as a mechanic in the city but was fully committed to his passion that one day he would get himself recognized as a professional football player. With the passage of time, for Fazal to achieve his goal, the hurdles, after one and other that stood in his way, demolished by his courage.

“Though my family remained constrained by financial problems, yet I had full support from my family and friends,” Fazal remembers the days when he carried both his passion for football and responsibilities of family hand in hand.

Fazal embarked on his international journey in 2008 when, after tiresome football trials, he was selected for country’s national team (under 14) which, after a training camp, had to visit Iran. Subsequently, he visited to Singapore with the national team (under 15) in 2009. Similarly, the year 2010 was not less than a miracle for Fazal to accompany the national team (under 16) to Malaysia.

“When I was quite young, my brother Wasim (international) was first time selected for the national team in 2005 for participating in a football event in India where my brother was given the best player award. This glorious achievement instilled in me the spirit and passion to be a player of an international repute,” says Fazal courageously.

For Fazal to be proud of, his family, in the district, is the sole family whichhas three international football players. Unfortunately, Wasim, the eldest of the family, had to abandon his career due to lack of facilities available in the province to train and equip the young players for future national team.

“My younger brother (the youngest in family) is also an international football player. He was selected in the national team (under 14) for Iran in 2013 and he has also accompanied the national team (under 15) to China in 2014,” says Fazal.

Unluckily, Fazal and his brothers are few examples from many that have been prey to lack of talent hunt initiatives by the country or its apathy attitude towards the talented players whether it is cricket, football or hockey.

“I have done it myself all the way. I asked my seniors even for “shoes” for playing matches domestically. We suffer from lack of professional coaches and trainers as well as football training needs training equipments, which one cannot afford oneself,” laments Fazal on lack of concentration on the part of country’s football management.

Currently, Fazal plays for Karachi United and has been part of it for one year. In 2014 he had played for Pakistan Navy as well but he had to leave the team owing to being diagnosed with Hepatitis B.Now, He serves as a trainer which he not only considers an onus but also a national duty to imbue the young players with professional skills to be ready to excel in the field of football.

“My dream is to establish a football academy in my native city for the young players as their talent is often wasted owing to lack of facilities and they keep growing frustrated,” hopes Fazal.

“Our young football players are energetic and talented but, what bars them from coming ahead, is either frustrated parents or the lack of concentration by talent hunters. We can face any team if talent of our young football players is harnessed properly and, for this, a collective will and effort by stake holders is need of the hour,” concludes Fazal.

اندھیروں سے روشنی تک کا سفر

ہماری قوم کا وقار قوم سے جڑے ہر ایک فرد خواہ بھی شعبے (کھیل ،تعلیم یا سائنس )سے وابسطہ انفرادی کامیابیوں سے بلند ہوتا دیتا ہے۔ یہ کامیابیاں خواہ سائنس کے میدان میں نرگس میولوالا کے سر نئی ایجاد کا سہرا ہو‘ احسام الحق کا کھیل کے میدان میں بہترین کارکردگی ‘ عامر کے حیریف کو دھول چٹا دینے والے پنچزہوں یا پھر لیاری اسٹریٹ فٹبال ٹیم کی شاندار جیت ہو‘ قوم کا فخر ان انفرادی کا میابیوں سے سر شار دیتا ہے۔ اسطرح قوم مصباالحق کے کپتانی کے گزرے شاندار پچاس سال کے جشن سے لیکر احمد مجتباح کی بے مثال اکامیابی تک انفردی کامیابوں کا سہرا اپنے سرلے کر پھولے نہ سمائے دکھائی دیتا ہے۔
بلاشبہ، یہ انفرادی کامیابیاں قوم کے فخر کے پیمانے کو وقتاً فوقتاً بھرتی رہتی ہیں اور قوم دنیاکے آگے سر بلند رہتی ہے۔ لیکن جب یہ مشن کا رکس مدہم پڑجاتا ہے تو کسی بھی شعبہ کھیل ، تعلیم یا سائنس سے وابستہ ہر ایک کامیا ب فرد پھر ادنیٰ وسائل کے ساتھ ایک اور انفرادی کامیابی حاصل کرنے کیلئے تنہا چھوڑ دیا جاتا ہے۔
کہتے ہیں کے ہمارا ملک انفرادی قوت کا گہوارہ اور کھیل کے میدان میں ہنر مند کھلاڑیوں کے پیداور کا گڑھ ہے۔ وقت کے ساتھ یہ دعوے ماند پڑ جا تے ہیں کیونکہ ہمارے ملک میں کسی بھی کھیل کے میدان میں ہنر کا مطلب انفرادی جدوجہد ہے۔
کھلاڑی اپنے ہنر کو ظاہر کرنے کیلئے پرنٹ ‘ الیکڑونک یا سوشل میڈیا پر انحصار کرتے ہوئے قومی ہنر کے فروغ کے دائرے سے کوسوں دور اپنے قسمت کے چمکنے کا انتظار کرتے ہیں۔
قسمت کہیے یا معجزہ، حال ہی میں یوفون کے ایک اشتہار نے ایک ایسے ہی ہنر مند کھلاڑی ‘ جوکہ فٹبال کے میدان میں فضل انٹرنیشنل کے نام سے جانے جاتے ہیں‘ کو ٹی وی اسکرین پر اُجاگر کیا۔ فضل بلوچ صوبہ بلوچستان کے ضلع خضدار سے تعلق رکھتے ہیں ۔ انہوں نے نہ صرف علاقائی سطح پر بلکہ بین ا لاقوامی سطح پر بھی نام کمایا ہے۔
فضل بلوچ اپنے فٹبال کیریئر پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہتے ہیں، ’’ میں سب سے پہلے یوفون کا مشکور ہوں کہ اس نے مجھے اور میرے ہنر کو پورے ملک کے سامنے اجاگر کیا۔ اگر یوفون مجھے اشتہار میں ایک مرکزی کردار نہ دیتا تو میرے ہنر کوشا ید کسی لوہے کی طرح زنگ لگ رہا ہوتا۔‘‘
مسڑ فضل بلوچ ضلع خضدار کے وسط سے چند کلو میڑ دور ایک پہاڑی سلسلے کے دامن میں واقع ایک چھوٹے سے قصبے ’کانگ‘ سے تعلق رکھتے ہیں۔فضل ایک مکینک ہونے کے ساتھ ساتھ فٹبال کے پیشہ ورانہ کھلاڑی بننے کا بھی عزم رکھتے ہیں ۔ وقت کے ساتھ ساتھ فضل کے لئے ان کے مقصد کو حاصل کرنے میں کھڑی تمام مشکلات ان کے عزم اور ہمت کے سامنے ریت کی دیوار ثابت ہوئیں۔
فضل بلوچ ماضی کے اُ ن دنوں کی جب اُنہیں گھر کا مالی بوجھ اور اپنا پیشہ اور عزم کے ساتھ لے کر چلنا پڑتا تھا ، یا د تازہ کرتے ہوئے کہتے ہیں، ’’ میر ا گھرانہ مالی مشکلات سے دو چار تھا‘ تاہم میری فیملی اور دوستوں نے میری ترقی میں میرا بھر پور ساتھ دیا‘‘
مسٹر فضل نے 2008میں اپنا بین الاقوامی سفر شروع کیا جب وہ سینکڑوں فٹبال ٹرائلز کے بعد قومی ٹیم (under 14) کیلئے منتخب ہوئے۔ انہوں نے قومی ٹیم (under 14)کے ساتھ پہلی بار ایران کا دورہ کیا اور 2009میں قومی ٹیم( under 15)کے ساتھ سنگاپور کا دورہ کیا ۔ اسی طرح سال 2010بھی فضل کیلئے معجزانہ رہاجبانہوں نے قومی ٹیم( under 16 )کے ساتھ ملا ئشیا ء کا دورہ کیا۔
فضل بلوچ کیلئے اُن کا بھائی وسیم فٹبال کے میدان میں رجحان کا مرکز رہا۔فضل اس بارے میں کہتے ہیں کہِ ’’ جب میں کافی چھوٹاتھا ‘ میرے بھائی وسیم انٹرنیشنل کو 2005میں قومی ٹیم کے ہمراہ بھارت میں ایک فٹبال مقابلے میں شرکت کا مو قع ملا جس میں وسیم کو بہترین کھلاڑی کے اعزاز سے نوازا گیا۔ اس شاندار کا میابی نے مجھ میں بھی ایک پیشاورانہ کھلاڑی بننے کا جذبہ پروان چڑ ھا یا۔‘‘
مسٹر فضل کیلئے تینوں بھایؤں کا بین الاقوامی سطح کے کھلاڑی کا اعزاز حاصل کرنا باعث فخر ہے۔ لیکن فٹبال کے فروغ کے سنجیدہ اقدامات اور جدید سہولیات کی عدم فراہمی نے فضل کے بڑے بھائی وسیم کو اپنے پیشے میں مزید آگے بڑھنے سے قاصر رکھا اور مجبوراََ وسیم کو اپنے فٹبال کیرئیر کو چھوڑناپڑا۔
مسٹر فضل بلوچ کا کہنا ہے کہ ان کے سب سے چھوٹے بھائی کو بھی اس وقت تک تین مرتبہ قومی ٹیم کے ساتھ بین الاقوامی سطح پر کھیلنے کا موقع ملا ہے۔
بدقسمتی سے ‘ فضل اور اُس کے بھائی چند ایسی مثالیں ہیں جو ملک کی اُس بد دل کر دینے والی اور سست حکمت عملی کا شکار ہیں جو اکثر ہنر مند کھلاڑیو ں کو ڈھونڈ کر قومی سطح پر تربیت دینے میں پوری طرح ناکام ہوچکی ہے ۔
مسڑ فضل کاا س حوالے سے کہتے ہیں کہ، ’’ میں نے آج تک تمام تر سفر انفرادی طور پر طے کیا ہے ۔یہاں تک کہ میں علاقائی سطح پر کھیلنے کیلئے بھی اپنی ضرورت کی چیزوں کے معاملے میں اپنے سینئر پر انحصار کرتاتھا۔ ہمیں (فٹبال کے کھلاڑیوں) کو اس وقت ماہر تربیتی لوگ اور تربیتی آلات کی اشد ضرورت ہے۔اور ان مہنگے آلات کو انفرادی طور پر خریدانہیں جاسکتا‘‘۔
فضل پچھلے ایک سال سے کراچی یونائیٹڈ سے بطور ایک تربیتی اسٹارمنسلک ہیں۔2014میں ہیپاٹائٹس بی کے جان لیوا مرض میں مبتلا ہونے سے پہلے ‘فضل بلوچ پاکستان نیوی میں کھیل چکے تھے۔ فضل بلوچ کراچی یونائیٹڈ میں بطور تربیتی استاد فرائض انجام دینے کو نہ صرف ایک انفرادی فریضہ بلکہ ایک قومی فرض بھی سمجھتے ہیں تاکہ وہ فٹبال کے میدان میں آنے والے نوجوان کھلاڑیوں کے لئے راہ ہموار کر سکیں۔
فضل بلوچ اپنے علاقے کے نوجوانوں کے روشن مستقبل کیلئے پر عزم ہیں وہ کہتے ہیں ’’میرا خواب میرے علاقے کے کھلاڑیوں کی چھپی ہوئی صلاحیتوں کو ایک تر بیتی کیمپ کا آغاز کرکے اجاگر کرناہے۔ میرے علاقے کے نوجوانوں کی نمایاں صلاحیتیں اکثر مناسب سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے ضائع ہوجاتی ہیں ۔ اور اس طرح کے حالات انھیں مزید مایوس کردیتے ہیں‘‘۔
فضل کا خیال ہے کہ بلوچستان کے کھلاڑی محنت کش اور صلاحیتوں سے لیس ہیں۔ لیکن گھر کی طرف سے عدم توجہ اور قومی سطح پر ٹیلینٹ ہنٹگ پروگرامز کا نہ ہونا انہیں مایوس کردیتاہے۔ فضل بلوچ مزید کہتے ہیں کہ اگر ہمارے نوجوان کھلاڑیوں کی قومی سطح پر موثر تربیت کی جائے تو وہ کسی بھی سطح پر کاردگی کا مظاہرہ کرسکتے ہیں۔ تاہم اس کے لئے منصفانہ کاوشیں اور ٹھوس حکمت عملی وقت کی اہم ضرورت ہے۔