Editor’s Note

Dear Readers

A little over a year is remaining from the next general elections in the country. In case of Balochistan one can clearly observe a scene of electioneering. All political parties are conducting political gatherings, opening their doors for electable candidates and working on forging political alliances. The activity of the parties in opposition such as BNP. JUI-F, PPP seem to be justified as these parties feel that they have a chance in next elections. However it’s baffling to see the enthusiasm among the ranks and file of National Party for the upcoming elections.

National Party has been in power in Balochistan for last four years and miserably failed in ruling the province. National Party has all the rights to prepare and contest the next general elections however it’s necessary for a common voter not to get deceived from them. This party came to power in 2013 when the insurgency in Balochistan was at its peak. The leaders of National Party cashed the nationalist card to get in power and then for next four years their focus was on protection of personal vested interests. They did not do anything to solve the problem of missing persons and also could not get anything material from the CPEC agreement. Dr. Malik Baloch, as CM, was one of the principal signatories on Initial CPEC agreement. National Party will also be held responsible in future history books as the party which agreed, in Council of Common Interests, to conduct a census that affected demographics of the province.

Same goes for ruling leaders of PML-N and the Pashtunkhwa Milli Awami Party (PKMAP). It’s high time that common voters in Balochistan must not get trapped by the future promises of these three parties in next general elections. Voters must hold them accountable for their worse performance in last four years in next general elections.

Regards,

Tania Baloch
Editor-in-Chief

مدیر کا پیغام

 

ملک میں آنے والے عام انتخابات کے انعقاد میں تقریباً ایک سال کا عرصہ ہی باقی رہ گیا ہے۔ بلوچستان میں انتخابی سرگرمیوں کی شروعات عام مشاہدے میں آرہی ہیں۔ صوبے میں موجود تقریباً تمام سیاسی پارٹیاں اپنی بسات بھر کوششوں سے سیاسی اکٹھ و میل جول ، بااَثر امیدواروں کے چناؤ اور انتخابی دھڑے بندیوں میں متحرک ہوچکی ہیں۔ بلوچستان میں حزب اختلاف کی جماعتوں بالخصوص پاکستان پیپلزپارٹی، بلوچستان نیشنل پارٹی اور جمعیت علمائے اسلام فضل الرحمان گروپ کی سرگرمیاں اس جوش و خروش کے ساتھ دیکھنے کو مل رہی ہے کہ جیسے یہ جماعتیں آنے والے عام انتخابات میں اپنی کامیابی کے قوی امکانات کی حق توقع رکھتی ہیں۔
حکمران اتحاد کی جماعت نیشنل پارٹی اور اُس کی قیادت میں آنے والے عام انتخابات کی تیاریوں میں تعجب انگیز ہیجان دیکھنے کو مل رہا ہے۔

باوجود یہ کہ نیشنل پارٹی گزشتہ چار برس سے اقتدار میں اپنی شراکت کے باوجود بھی صوبے کی عوام پرور حکمرانی میں انتہائی ناکام ثابت ہوئی ہے۔ اگرچہ نیشنل پارٹی کوبھی عام انتخابات میں حصہ لینے اور اپنی انتخابی مہم کی پیشگی تیاریوں کا پورا حق حاصل ہے لیکن عام ووٹر کا بھی حق ہے کہ وہ نیشنل پارٹی کے فریب میں نہ آئے۔
جب2013ء میں بلوچستان میں جاری شورش اپنے عروج پر تھی تو تب نیشنل پارٹی عام انتخابات میں بلوچستان قوم پرستی کا کارڈ کیش کروا کر اسمبلیوں میں آئی اور حکمران اتحاد کا حصہ بنی۔گزشتہ چار سالوں میں نیشنل پارٹی کی قیادت کا سارا زور اپنے ذاتی مفادات کے تحفظ اور مطلب پرستی پر چلا آرہا ہے۔اِن چار سالوں میں نیشنل پارٹی نے نہ تو گمشدہ شہریوں کا مسئلہ حل کیا اور نہ ہی پاک چین اقتصادی راہداری کے منصوبہ سے بلوچستان کے لیئے کوئی قابلِ قدر مجسم شیئرلیا جبکہ اس دوران مرکز میں نیشنل پارٹی کی اتحادی جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز کی حکومت چلی آرہی ہے۔ نیشنل پارٹی کے ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ بھی بلوچستان کے وزیراعلیٰ رہنے اور بلوچستان کی جانب سے پاک چین اقتصادی راہداری کے بنیادی معاہدے پر اولین دستخط کرنے والوں میں وہ بھی شامل تھے۔
نیشنل پارٹی کو تاریخ قصوروار ٹھہرائے گی کہ مشترکہ مفادات کونسل میں اُس کی رضامندی سے ہی ایسی مردم شماری کروائی گئی کہ جس نے بلوچستان کے آبادیاتی نظمِ اجتماعی کو بری طرح متاثر کیا۔

تاریخ یہی معاملہ پختونخوا ملی عوامی پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ نواز کے ساتھ بھی کرے گی۔
وقت کا تقاضا ہے کہ بلوچستان کے عام ووٹرز آنے والے عام انتخابات کے سلسلہ میں ان تینوں جماعتوں کے وعدوں کی فریب کاریوں میں نہ آئیں۔ ووٹروں کو چاہیے کہ ان کی موجودہ مدت میں بدترین کارکردگی پر آنے والے عام انتخابات میں ان کے عوامی احتساب میں انہیں مسترد کردیں۔

تانیہ بلوچ 

ایڈیٹر ا ن چیف


Warning: A non-numeric value encountered in /home/balochistan/public_html/wp-content/themes/Newspaper/includes/wp_booster/td_block.php on line 2017