Dear Readers

After 18th amendment, federal government claims that complete provincial autonomy has been granted to provinces but the impact of this autonomy can’t be seen in lives of common people.

When we talk about Peaceful Balochistan we forget that as long as people are not economically prosperous and well off it’s not easy to bring them into fold. Need of the hour is that government should take steps on emergency basis and solve problems of people to restore their confidence in government.

In Balochistan where there is talk of development one can see new mega projects and programs. Concerns of local population from the mega projects are clear and well known. Whether its Hub, Gwadar or Chagai all of the places are lucrative for the investors. However it’s still not clear whether the local people will benefit from these mega projects in any way or will be able to get their basic rights.

In Balochistan different government came and went away Nationalists also got the chance to govern the province but there was no pleasant change whatsoever in the lives of people of Balochistan.

People of Balochistan eagerly await development and prosperity but the rulers who have come to power through votes of the people have failed to get them their due rights.

ادارتی نوٹ

آٹھارویں ترمیم کے بعد چونکہ وفاق یہ دعویٰ کرتی ہے کہ صوبوں کو مکمل خود مختاری حاصل ہے تو اس کے ثمرات عام عوام کی زندگیوں میں کیوں نظر نہیں آتے ہیں۔

جہاں ہم پر امن بلوچستان کی بات کرتے ہیں تو یہ ہم کیوں بھول جاتے ہیں کہ جب تک عوام معاشی طور پر خوشحال نہیں ہوگی کسی قسم کی جارہیت کا مقابلہ کرنا یا پھر ان کی ناراضگی دور کرنا قدرِ مشکل ہوجائے گا۔ وقت کا اہم تقاضہ ہے کہ حکومت عوام کے مسائل پر سنجیدگی سے عمل درآمد کرے اور انقلابی بنیادوں پر ایسے اقدامات اٹھائے کہ عوام کا اعتماد بحال کرنے میں کامیابی حاصل کرسکے۔

بلوچستان میں جہاں ترقی کی نئی راہیں دیکھی جارہی ہیں میگا پروجیکٹس زیر بحث اور زیر دستخط ہیں وہاں مقامی افراد کے خدشات اور تحفظات بالکل واضع ہیں چاہے بلوچستان کا شہر ’’حب ‘‘ ہو ’’ گوادر ‘‘ یا پھر ’’چاغی ‘‘ یہ سونا اگلتی زمینیں یہاں آنے والے سرمایہ داروں کیلئے ایک اچھا کاروباری موقع ہیں مگر سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ یہاں کے عوام ان مواقعوں میں سے کچھ حصہ اپنے لیئے بھی حاصل کر پائیں گے یا نہیں وہ بنیادی سہولتیں جن کا ہر شہری حق رکھتا ہے حاصل کر پائیں گے یا نہیں۔

بلوچستان میں کئی جمہوری حکومتیںآئی اور گئیں جن میں قوم پرست جماعتوں کو بھی حکومت سازی کا موقع ملا مگر حقیقتاً عوام کی زندگی میں کسی قسم کی خوشگوار تبدیلی نہیں آئی۔

بلوچستان کی عوام تہہ دل سے ترقی اور خوشحالی کے منتظر ہیں مگر بد قسمتی سے ان حکمرانوں کو جو آج انہی کے دیئے گئے قیمتی ووٹ کی بدولت ایوانوں میں بیٹھے ہیں انھیں ان کا جائز حق نہ دلا سکے ۔