It’s said that there is no life without good health. In the world, if we talk about developed countries or developing countries, health is the field which gets most attention. In June 2013, formation of new government brought a hope for the public that Ministers and advisors belonging from Middle Class will provide high quality health services. However in last two and half years people have not got anything more than hopes and empty promises.

The Health care service delivery system in Balochistan, as everywhere in the universe comprised of three (03) integrated and correlated triangle of “Health Educational Institutes (Medical Colleges)”, “Health Care Services Delivery Institutes (Hospitals etc)” and “manpower (Doctors, Paramedics etc.)”.

Whether its hospitals of big cities or small districts, public suffers a lot in them. The reason for the plight of hospitals is the absence of good management and appointment of incompetent people based on nepotism.

Incumbent government announced to establish three new colleges in Balochistan which would be established in Khuzdar, Turbat and Loralai. People appreciated this step but unfortunately this project does not seem to materialize. Following are the reasons for delay in establishment of medical colleges:

1. Health Educational Institutes (Medical Colleges): To the utter astonishment of everyone, the province of Balochistan with an approximate population of 8 million has only one medical college. It clearly transpires that the contribution of this one medical college in production of doctors for the province cannot be relied upon unless other medical colleges are established. With this background in view, the present government, soon after its installation announced establishment of three more medical colleges each at Khuzdar, Turbat and Laralai. This move was appreciated by the people of Balochistan, but unfortunately this measure of the government seems to be a failure. This fear of failure can be predicted on the following, few amongst other, grounds:

i. Despite lapse of two and a half years, the physical infrastructure of none of the colleges has been completed.

ii. In spite of construction of new building for medical colleges and affiliated teaching hospital, as per guidelines of PMDC, the already existing building of Divisional Head Quarter of Hospitals and those of education department are being renovated and that too with a speed of tortoise.

iii. The entire process of construction of medical colleges has been initiated without prior consultation of PMDC.

iv. Each medical college is proposed to enroll fifty (50) admissions. According to PMDC rules the duration of Medical Education is five (5) years. And first two years are confined to the study of “Basic Sciences” only. As per rules of medical college of 50 admissions in a college, 66 teachers with a minimum qualification of M.Phil. are required or else the medical college will be de-recognized. Thus for 3 new Medical Colleges 198 M.Phil. teachers (from Lecturer to Professors) are required. Whereas the requirement of the already existing Bolan Medical College as per PMDC rules for teachers of Basic Sciences is ninety-nine (99). While only thirty (30) teachers are there in this faculty in BMC, Quetta.

v. The production of this number of teachers of Basic Sciences i.e. 267 teacher will at least take 15 years. Here a question arises that in the absence of qualified and mandatory man power, why the decision of construction of three medical colleges was made when the BMC Quetta is already deficient in terms of man power?

vi. To the surprise of everyone the estimated cost of these three medical colleges is Rs. 1500 million. In the absence of Manpower and consequent failure of these colleges, the poor population rather than payers will have to bear the exchequer of Rs 1500 million.

2. Health Care service Delivery Institute (Hospitals) etc:
The health care service delivery institutes in Balochistan are fairly less than 1000 in number. They include:

i. Tertiary Hospital = 04 in numbers

ii. District Headquarter Hospitals (DHQs) = 28 in number

iii. Tehsil headquarter Hospitals (THQs ) = 15 in number
(Approximately)

iv. 50 bedded hospitals = 08 in number.

v. Basic Health Unit (BHUs) = 600 in number

vi. Civil Dispensaries (CDs)

Despite of tons of billions of rupees released and spent for medicine, repair and equipment, during the last 2.5 years no improvements has been made in these hospitals of different level. This clearly shows failure of government in health sector.

3. Manpower (doctors, paramedics etc.):
As stated supra, the number of manpower in health department is not sufficient enough to meet the criteria of Doctor patient ratio as per PMQC rules. From college level to civil dispensary level, there is a dearth of qualified staff, 90% of the BHUS, CQs and THQs are being run without doctors. 95% of the DHQs are being run by Doctors who are 25% of the required number. This reflect the failure of the present regime in the sphere of Health sector.

بلوچستان میں محکمہ صحت کی زبوں حالی 

کہتے ہیں کہ “جان ہے تو جہاں ہے”۔ دنیا میں چاہیں ہم ترقی یافتہ ممالک کی بات کریں یا پھر ترقی پذیر کی جس شعبے کو سب سے زیادہ اہمیت حاصل ہے اس کا تعلق صحت سے ہے۔ جون 2013 میں بلوچستان میں نئی حکومت کا قیام صوبے بھر کی عوام کے لئے یہ نوید بن کر آیا کہ اس صوبے کے متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے یہ وزیر اور مشیر صحت عامہ اور اس جیسی دیگر بنیادی سہولتیں انہیں مہیا کریں گے۔ مگر گزشتہ ڈھائی سالوں سے عوام کی جھولی میں سوائے وعدوں اور ارادوں کے اور کچھ نہیں ڈالا جارہا ہے۔ 

صوبے کے بڑے شہروں یاضلعی سطح کے اسپتال ہوں ، ہر طرف عام عوام در بدر نظر آتے ہیں جس کی ایک بڑی وجہ مناسب مینجمنٹ کا نہ ہونا اور سیاسی دباؤ کے ذریعے اپنے من پسند افراد کی بھرتی ہے۔ 

موجودہ حکومت نے تین میڈیکل کالجز بنانے کا اعلان کیا جو خضدار، تربت اور لورالائی میں تعمیر کئے جائیں گے۔ بلوچستان کے عوام نے اس منصوبے کو سراہا لیکن بدقسمتی سے حکومت کا یہ اقدام کامیاب ہوتا نظر نہیں آرہا ہے۔ ناکامی یا تاخیر کی وجوہات کچھ اس طرح سے ہیں۔

:(صحت کے تعلیمی ادارے (میڈیکل کالجز -I

سب سے زیادہ حیران کن بات یہ ہے کہ صوبہ  بلوچستان جس کی آبادی تقریبا آٹھ ملین ہے وہاں صرف ایک میڈیکل کالج ہے۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ڈاکٹرزتیار کرنے کے لئے ایک میڈیکل کالج کی کارکردگی پر انحصار نہیں کیا جاسکتا جب تک پورے صوبے میں مزید میڈیکل کالجز تعمیر نہ کئے جائیں ۔ اس صورتحال کو مد نظر رکھتے ہوئے، موجودہ حکومت نے اپنا منصب سنبھالتے ہی تین مزید میڈیکل کالج بنانے کا اعلان کیا جو خضدار، تربت اور لورالائی میں قائم کئے جائیں گے ۔ بلوچستان کے عوام نے حکومت کا یہ اقدام بہت سراہا لیکن بدقسمتی سے حکومت کا یہ اقدام ناکام ہوتا نظر آرہا ہے۔ناکامی کے خوف کا اندازہ مندرجہ بالا کچھ وجوہات کی بناود پر لگایا جاسکتا ہے 

 ڈھائی سال گزرنے کے باوجود بھی کسی کالج کا تعمیری ڈھانچہ (i
تک مکمل نہیں ہوا ہے۔

پی ایم ڈی سی کی ہدایات کے مطابق میڈیکل کالج اور اس سے ملحقہ اسپتال کی نئی (ii
عمارت تعمیر کرنے کے بجائے پہلے سے موجود ڈیوژنل ہیڈ کوارٹر کے اسپتال اوراس کے تعلیمی محکمہ جات سے متعلق عمارتوں کی مرمت کچھوے کی رفتار سے جاری ہے۔
 

میڈیکل کالجز کی تعمیر کا یہ پورا مرحلہ پی ایم ڈی سی سے مشاورت کئے بغیر شروع کیا (iii گیا ہے۔

ہر میڈیکل کالج میں پچاس داخلوں کے اندراج کی تجویز دی گئی ہے۔ پی ایم ڈی سی کے (iv قوانین کے مطابق میڈیکل کی تعلیم کا دورانیہ پانچ سال ہے اور ابتدائی دو سالوں کو بنیادی سائنس کی تعلیم تک محدود رکھا ہے۔ایک میڈیکل کالج میں 50 داخلوں کے قوانین کے مطابق کالج میں 66 استاد کی ضرورت ہوگی جن کی کم از کم تعلیم ایم فل ہو وگرنہ کالج کو تسلیم نہیں کیا جائے گا۔ پس تین میڈیکل کالجوں کیلئے 198 لیکچرار سے لے کر پروفیسرز تک ایم فل اساتذہ کی ضرورت ہے۔ جبکہ پہلے سے موجود بولان میڈیکل کالج میں پی ایم ڈی سی قوانین کے مطابق بنیادی سائنس کے 99اساتذہ کی ضرورت ہے۔ جبکہ بولان میڈیکل کالج کی اس فیکلٹی میں 30اساتذہ ہیں۔

بنیادی سائنس کے اساتذہ کی یہ تعداد 267=66+66+66+69تیار ہونے میں کم از (v  کم 15سال لگ جائیں گے ۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ تعلیم یافتہ اور ضروری افرادی قوت نہ ہونے کے باوجود تین میڈیکل کالج بنانے کا فیصلہ کیوں کیا گیا جبکہ بولان میڈیکل کالج کوئٹہ پہلے ہی افرادی قوت کی کمی کا شکار ہے۔

سب سے حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ان تین میڈیکل کالج کی لاگت کا اندازا پندرہ سو ملین (vi روپے لگایا گیا ہے۔ افرادی قوت کی کمی اور ان کالجوں کی تعمیر میں ناکامی کے نتیجے کے باعث ٹیکس نادہنگان کے بجائے غریب عوام کو قومی خزانے کے پندرہ سو ملین روپے کا بوجھ برداشت کرنا پڑے گا۔ 

:(صحت کی فراہمی کے ادارے (اسپتال وغیرہ -II

    بلوچستان میں صحت کی فراہمی کے مراکز کی تعداد ایک ہزار سے بھی کافی کم ہیں۔ جن کی تفصیلات درج ذیل ہیں

ٹیرٹیاری اسپتال۔۔ 4عدد (i
ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اسپتال(ڈی ایچ کیو )۔۔ 28عدد (ii
تحصیل ہیڈ کوارٹر اسپتال۔۔۔ 15عدد تقریبا(iii
50 بستروں والے تحصیل اسپتال۔۔ 8عدد (iv

بنیادی صحت کے مراکز اکائی۔۔۔ 600 (v

 شہری ڈسپنسریاں۔۔۔(vi

گزشتہ ڈھائی سال میں آلات،مرمت اور دوائیوں کیلئے بجٹ میں سے اربوں روپے نکلوائے اور خرچ کئے گئے لیکن کسی بھی سطح پر اسپتالوں میں بہتری نظر نہیں آرہی۔ یہ صحت کے شعبے میں حکومت کی ناکامی ظاہر کرتی ہے۔ 

(افرادی قوت (ڈاکٹرز، عملہ وغیرہ -III

جیساکہ اوپر بیان کیا گیا ہے کہ پی ایم ڈی سی قوانین کے مطابق محکمہ صحت میں افرادی قوت ڈاکٹر مریض کے تناسب کے معیار کو پورا کرنے کے لئے ناکافی ہے۔ کالج کی سطح سے لے کر شہری ڈسپنسریوں تک میں تعلیم یافتہ عملے کی شدید کمی ہے۔ نوے فیصد بی ایچ کیوز، سی کیوز اور ٹی ایچ کیوز ڈاکٹروں کے بغیر چل رہے ہیں۔ پچانوے فیصد ڈی ایچ کیوز ڈاکٹروں کے زیر اثر چل رہے ہیں لیکن وہ ضرورت کا صرف پچیس فیصد ہے۔ یہ صحت کے شعبے میں موجودہ حکومت کی ناکامی کی عکاسی ہے۔