Rehmat Khatoon belongs to the Siyan Community of Baloch tribe. About 55 years ago, she was born in the home of active social leader Noor Mohammad Siyan, in the vicinal village Goth Qadwani of Kandacha Valpet situated at the 30 km distance from historical city Bela of district Lasbella.

After her father’s demise, Rehmat khatoon was aggressive to move forward the values of her forefathers and mission of her father. She is committed to alive the mission and character of his father in the society and decided to strive and work hard for her people.

The society in which Rehmat Khatoon opened her eyes is a traditional and tribal society where there was dominancy of feudalism and backwardness.

But, Rehmat Khatoon, a positive thinker and promoter of development, accepted this challenge while living in the outdated traditional society.

Rehmat Khatoon gave birth to seven children after her marriage but she took care well of her home , relatives and family in addition to welfare services at social level for people of her community.

She thought that in the backward society where people are deprived of basic necessities of life, no change will occur in the life of villagers nor will the fruits of development reach to the people if we silently accept the backwardness as our fate. In this traditional society, Rehmat Khatoon, who worked as an active political and social worker, faced a lot of difficulties. She also faced the problems like social differences, disputes and internal conflicts. Her family encountered heaps of problems, children faced a lot of difficulties, and some people of her family and her elder son also get imprisoned. Despite of internal issues and problems she did not give up her social activities.

She fought the problems like a man. She had only 2 acres of hereditary agricultural land available for livelihood. She worked and labored with her children on this agricultural land for livelihood. This agricultural land is cultivated through water of Siyan of Porali in which she harvested and planted the millets, peanuts and guar like crops for survival.

She continues to openly denounce and condemn the mutual disputes, backwardness and exploitation in her nearest communities. She still appears to continuously inform the concerned people with her capacity about the basic problems of people.

According to Rehmat Khatoon, she had seen the poverty, starvation and thirst closely which are tightly knot with her for 55 years to no more afraid her. She is the religious women who keeps her trust in God and believe on hard work and labour. She also faced some natural disasters. Mostly due to floods and heavy rain, their farm fields has destroyed but during this she had also seen as a whole-hearted representative of people. She was successful in getting the aid for the people by connected with the government and non government institutions. Due to these activities Rehmat Khatoon got very fame in the whole region of Valpet. In the local Government election of 2007, she fought election on the general seat of women of Union Council Kathor and got 200 votes from the whole union and despite of all the conflicts, she won with a great margin.

By considering the objective of deaths and complications in women during delivery, Rehmat Khatoon herself got training of midwife from the collaboration of non government institution of Sangat Lasbella, Peman and USAID. She has awarded the degree of TBA. Now she performs delivery cases in her village.

As a lady councilor who played a very important role to get rid the people from Lake water and became successful in bringing the water scheme by the collaboration of H.E.D. For giving the ballot rights to the people of her territory, she helped the men and women in making more than 200 N.I.C’s by the collaboration of NADRA and doing efforts for the poor widows. She got successful in giving financial support to more than 50 women through Benazir Income Support program. By her efforts, there were three water tanks made in the area.

Rehmat Khatoon provides full facility to the people as she hears
about people’s problems and makes formal judgments. When she talks about marriages, divorce, land lording and water problems then people gives importance to her opinion. She is also playing an important role in settlement of murder controversy. She said as long as she alive she will continue to raise the voice for the basic rights of her people. Neither I bow down in front of Feudalism system nor would my people bow.

Rehmat Khatoon still sees as an active worker with great commitment, courage and bravery. Her political opponents also have not been successful in reducing her fame. This time Rehmat Khatoon did not take participation in the local general body elections. Her opinion is that it only fills the seat of women but is not given importance and funds to them. Therefore she had decided to take herself away from the part of such system and committed to her work.

اور پھر اس نے کبھی پیچھے مڑ کر نہ دیکھا۔۔۔۔۔۔

تحریر عبدالحق زوق بلوچ

رحمت خاتون بلوچوں کے قبیلے سیاں برادری سے تعلق رکھتی ہے۔ جو تقریباَ 55 سال قبل ضلع لسبیلہ کے تاریخی شہر بیلہ سے 30 کلومیٹر کی مسافت پر واقع کنڈاچہ جاگیر ویلپٹ کے نواحی گاوں گوٹھ قادوانی میں ایک سرگرم سماجی رہنما نورمحمد سیاں کے گھر پیدا ہوئیں۔

والد کی وفات کے بعد اپنے آباواجداد کی روایات اور اپنے والد کے مشن کو آگے بڑھانے کے لئے رحمت خاتون ہمیشہ بے چین نظر آتی تھیں۔ آخر رحمت خاتون نے اپنے والد کے مشن اور ان کے کردار کو معاشرے میں زندہ رکھنے کی ٹھان لی۔ اور اس نے یہ فیصلہ کیا کہ وہ اپنے لوگوں اور علاقے کے لیے بھر پور جدوجہد اور محنت کرے گی۔  رحمت خاتون نے چونکہ جس معاشرے میں آنکھیں کھولیں وہ ایک روایتی اور قبائلی معاشرہ تھا اور وہاں ہر سو وڈیرہ شاہی اور پسماندگی کا راج تھا۔

لیکن مثبت سوچ کی مالک اور ترقی کا پرچا رکرنے والی رحمت خاتون نے ایک فرسودہ روایتی معاشرے کے اندر رہتے ہوئے اس چیلنج کو قبو ل کیا۔

گوکہ شادی کے بعد رحمت خاتون کے بطن سے سات بچوں نے جنم لیا۔ لیکن وہ اپنے گھر بار اہل وعیال اور خاندان کی ذمہ داریاں سنبھالنے کے ساتھ ساتھ سماجی سطح پر لوگوں کی فلاح وبہبود کی سر گرمیوں میں بھی وقت دیتی رہیں۔ انہوں نے سوچا کہ ایک پسماندہ معاشرے کے اندر جہاں لوگ زندگی کی تمام تر بنیادی سہولیات سے یکسر محرم ہیں۔ پسماندگی کو اپنا مقدر سمجھ کر چپ رہنے سے اس کے گاؤں کے پسماندہ لوگوں کی زندگی میں کبھی کوئی تبدیلی رونما نہیں ہوسکتی اور نہ ہی ترقی کے ثمرات لوگوں تک پہنچ پائیں گے۔

اس روایتی معاشرے کے اندر رحمت خاتون کو بحیثت ایک سرگرم سیاسی وسماجی کارکن بے تحاشا مشکلات پیش آئیں۔ سوشل اختلافات، باہمی جھگڑے اوراندرونی تضادات جیسے مسائل کا بھی رحمت خاتون کو سامنا کرنا پڑا اس کے خاندان پر مسائل کے انبار امڈ آئے بچوں کو کن تکالیف کا سامنا کرنا پڑا خاندان کے کچھ لوگ اور بیٹے کو جیل بھی جانا پڑا باہمی تضادات اور مسائل کے باوجود رحمت خاتون نے اپنی سماجی سرگرمیاں ترک نہیں کیں۔ وہ ایک مرد کی طرح مسائل سے بھر پور انداز میں لڑتی رہیں۔رحمت خاتون کے پاس ذریعہ معاش کے لیئے صرف دو ایکڑ موروثی زرعی زمین ہی دستیاب تھی وہ اپنے بچوں کے ساتھ اپنی زرعی زمین پرمحنت مشقت کرکے روزی حاصل کرتی تھی۔ یہ زراعی زمین پورالی کے سیاہ آب سے کاشت ہوتی ہیں جس میں جوار،مونگ اور گوار جیسی فصلیں اگا کروہ اپنا گزر بسر کرتی ہیں۔

وہ اپنے ارد گرد برادری میں باہمی جھگڑوں ،پسماندگی واستحصال کو ہمیشہ ڈنکے کی چوٹ پر مذمت کرتی رہیں وہ بلا خوف وخطر لوگوں کے بنیادی مسائل پر ذمہ داروں سے اپنی استعدادکے مطابق ہمیشہ آگاہ کرتی نظر آتی ہیں۔

رحمت خاتوں کے مطابق غربت، پسماندگی، بھوک اور پیاس کو اس نے بہت قریب سے دیکھا ہے جو 55 سال سے اس کے ساتھ بندھی رہی ہیں لہذا انہیں ان چیزوں کی کوئی فکر نہیں وہ خداپر بھروسہ رکھنے والی ایک دین دار خاتون ہیں محنت اور مشقت پر یقین رکھتی ہیں۔ انہیں کئی قدرتی آفات کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ اکثر سیلاب اور تیز بارشوں کی وجہ سے ان کے علاقے میں کھیت کھلیاں بکھر گئے لیکن وہ اس دوران بھی لوگوں کی بھر پور نمائندگی کرتے دکھائی دیں۔ سرکاری اور غیر سرکاری اداروں سے رابطے میں رہیں اور لوگوں کو امداد دلانے میں بھی کامیاب رہیں۔ انہی سرگرمیوں کی وجہ سے ویلپٹ کے پورے علاقے میں رحمت خاتون نے کافی شہرت حاصل کی۔ 2007 کے بلدیاتی انتخابات میں خواتین کی جنرل نشست پر انہوں نے یونین کونسل کاٹھوڑسے الیکشن لڑا اور اس پوری یونین کونسل سے انہیں دوہزار کے قریب ووٹ ملے اور تمام تر مخالفت کے باوجود رحمت خاتون نے بھاری اکثریت سے اس میں کامیابی حاصل کی۔

رحمت خاتون نے اپنے علاقے میں ڈلیوری کیسز میں اکثر خواتین کی اموات و پیچیدگی کو مدنظر رکھتے ہوئے خود باقاعدہ غیر سرکاری ادارے سنگت لسبیلہ، پیمان اور یو ایس ایڈ کے تعاون سے لوکل دائی کی تربیت حاصل کی۔ انہیں TBA کی سند دی گئی۔ اب وہ اپنے گاؤں میں ڈلیوری کیسز بھی کرتی ہیں۔

بحیثیت لیڈی کونسلرجس نے لوگوں کو کھلے تالاب کا پانی پینے سے چھٹکارہ دلانے کے لئے بہت اہم کردار ادا کیا اور وہ اپنے علاقے میں پی ایچ ای ڈی کے تعاون سے واٹر سپلائی کی اسکیم لانے میں کامیاب ہوئیں۔ لوگوں کو حق رائے دہی دلانے کے لئے نادرا کے تعاون سے اپنے علاقے کے مرد وخواتین کے 200 سے زائد شناختی کارڈ بنوانے میں لوگوں کی مدد کی اور غریب و بیوہ خواتین کے لئے تگ و دو کرتی رہیں۔ 50سے زائد خواتین کو بے نظیر انکم سپورٹ سے مالی مدد دلانے میں بھی کامیاب رہیں۔ انہوں نے علاقے میں تین واٹر ٹینک بنوائے۔

آج اپنے علاقے میں رحمت خاتون لوگوں کو مکمل سہولت فراہم کرتی ہیں۔ لوگوں کے مسائل سنتی ہیں اور باقاعدہ فیصلے بھی کرتی ہیں۔ شادی بیاہ ، طلاق، زمینداری اور پانی کے مسائل پر وہ جب بولتی ہیں اور فیصلہ کرتی ہیں تو لوگ ان کی رائے کو اہمیت دیتے ہیں۔ اور قتل جیسے قضیے نمٹانے میں بھی رحمت خاتون کا اہم کردار رہا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ میں جب تک زندہ ہوں اپنے لوگوں کے بنیادی حقوق کے لئے آواز بلند کرتی رہوں گی اور وڈیرہ شاہی نظام کے سامنے نہ تو کبھی خود جھکی ہوں اور نہ ہی اپنے لوگوں کو جھکنے دوں گی۔

رحمت خاتون عزم ، حوصلے اور جرات کے ساتھ آج بھی اپنے مشن پر سرگرم عمل نظر آتی ہیں۔ ان کے سیاسی مخالفین چاہتے ہوئے بھی ان کی شہرت میں کمی لانے میں کامیاب نہیں ہوسکے۔ اس بار بلدیاتی انتخابات میں رحمت خاتون نے حصہ نہیں لیا۔ ان کا موقف یہ ہے کہ خواتین کی نشست تو بھر جاتی ہیں لیکن فنڈز اور اہمیت نہیں دی جاتی ہے اس لیے انہوں نے ایسے نظام کا حصہ بننے سے دور رہنا گوارا کیا ہے اور وہ اپنے کام میں مصروف عمل ہیں۔