Near the south eastern part of the emerging port town of Gwadar lies an old neighborhood of Baloch fishermen. Near their little homes are some narrow streets with abandoned locked shops of a few Hindus who left long ago during 1940s-50s. Going along that line, a few other shops lead to 20 feet high boundary walls lined up from the four sides opening with an ornate wooden gate. Entering to that particular compound, one can find a community with a totally different culture, language and religion.

Gwadaris often experience some sort of astonishing expressions from the outsiders when talking about the diversity they have in the town. Gwadar and its nearby districts have a large number of Balochi speaking communities and it is very hard to find minorities living there however other than Baloch community Gwadar is home to more than 150 Agha Khanis or “Kojas” as locally known. It has been more than four centuries since they have been living here.

According to our ancestors, a large number of Agha Khanis migrated from India to different parts of the district including Gwadar, Pasni and Ormara during the 17th Century. While most other areas of the province were part the British colony, Gwadar remained a part of Omani Sultanate.

During that period for the protection of the minorities including Hindus and Agha khanis, the Omani government constructed a compound with boundary walls on four sides. Within it the Agha khanis had their homes, “Jamat Khana” or “Kojayani Aano” (as Balochs say) which still exist and the Hindus had their temple. Two famous Omani forts still seen from Shahi Bazar (Old Market) are inside the compound and were used by Arab soldiers to protect the minorities during the days and nights.

Things changed with time and specifically when Gwadar became a part of Pakistan in 1958. The Omani soldiers went
back to their country, few Hindus moved to India and Karachi. Along with them several Aagha Khanis moved to Karachi and foreign countries, yet many chose to live in the harbor village in the same colony that their ancestors lived.

Today a number of Agha khanis still live peacefully in Gwadar and work as teachers, journalists, traders, some have their own department stores and few work in different government departments. One of the famous and widely known whole-sale store in the market belongs to Tariq Koja an Agha Khani.

“We have always found Gwadar a peaceful place for minorities since we Agha Khanis are always treated as a part of the local population,” said Tariq Koja while dealing with some customers “I have had my department store for a long time and sometimes I have even seen Balochs leaving out the stores owned by other Balochs and making straight for my store to shop.”

It is hardly mentioned somewhere that the Agha Khanis somehow have a role in the educational development of the town as well. They were indeed the first ones to establish an English Medium High School in Gwadar. Perhaps the biggest benefit it provided was not only the education but a mind shift it introduced which was “educating girls”. It was among the first schools that encouraged parents to educate their daughters.

“We have many Balochs who have done their metric from this school and many who got opportunities to work there,” said a Gwadari. Although the school closed in 2008 but it left behind hundreds of innovative minds and it did complete its 100 years before closing.

Madam Kalsoom an Agha Khani teacher served in the government Girls’ High School for almost twenty years. It has
been eight years since she retired. Remembering the days when she first started teaching she says, “We hardly had any
Baloch female teachers in the school but today it makes me glade to see my students as teachers.”

This specific community has not only exerted toward the education sector or gender equality within the town but they have played major role in the field of journalism as well. The first journalist from Gwadar Abdul Majeed Jindani belonged to the same community. Following him today his son Akbar Jindani and several Baloch journalists work together for better society through their expressive work.

The Agha Khanis of Gwadar have set excellent examples of entrepreneurship and are perhaps the first Gwadaris to initiate trade and business. Today three major fish factories in Gwadar for instance; Gaba, Karim Impex and Sea Food Corporation are owned by the same minority.

According to the locals “Kojas” are somehow the pioneers of the social change in the region. Even if they were just a minority, their innovative efforts somehow played a vital role in the positive changes we experience in today’s Gwadar.

Midst the political unrest in the province, they had always remained moderate and peaceful and stood with the Balochs when needed.

آغا خانی۔ ساحلی شہر میں تبدیل ہوتے محرکات

جنوب مشرقی حصے میں ابھرتے ہوئے ساحلی شہر گوادر کے قریب بلوچ ماہی گیروں کی پرانی بستی قائم ہے۔ ان کے چھوٹے سے گھروں کے قریب کچھ تنگ گلیاں ہیں جن کے ساتھ بہت سے ہندوؤں کی تالا لگی بند دکانیں ہیں جو وہ 1940-50کی دہائی کے دوران چھوڑ کر چلے گئے تھے۔ اس گلی کے ساتھ بعض دکانوں کی دیوار چاروں طرف سے 20 فٹ بلند ہے جس کے ساتھ لکڑی کا خوبصورت دروازہ ہے۔ اس مخصوص حصے میں داخل ہوتے ہوئے کوئی بھی شخص ایک الگ مکمل ثقافت، زبان اور مذہب ملاحظہ کرسکتا ہے 

باہر سے آنے والے لوگ گوادر کے شہریوں سے بات چیت کے دوران شہر میں موجود اس تنوع پر اکثر حیرانی کا اظہار کرتے ہیں۔ گوادر اور اسکے قریبی اضلاع میں بلوچی بولنے والے افراد کی ایک بڑی تعداد موجود ہے اور یہ انتہائی مشکل ہے کہ ان میں اقلیتوں کو تلاش کیا جائے۔ تاہم گوادر میں دیگر بلوچوں کے علاوہ 150 سے زائد آغاخانی ہیں جو مقامی سطح پر خوجہ کی شناخت سے مشہور ہیں۔ وہ یہاں پر چار دہائیوں سے زائد عرصے سے رہائش پذیر ہیں۔ 

ان کے آباؤ اجداد کے مطابق آغا خانیوں کی بڑی تعداد نے 17 ویں صدی کے دوران بھارت سے ہجرت کرکے گوادر، پسنی اور اومارہ سمیت مختلف اضلاع میں رہائش اختیار کی۔ اگرچہ صوبے کا بیشتر حصہ برطانوی کالونی تھا لیکن گوادر بدستور عمانی سلطنت کا حصہ تھا۔ 

اس عرصے کے دوران اقلیتوں بشمول ہندوؤں اور آغا خانیوں کی حفاظت کے لئے عمانی حکومت نے ایک کمپاؤنڈ تعمیر کرواکر اس کے چاروں طرف حفاظتی دیوار کھڑی کروادی۔ اس کے اندر آغاخانیوں کے گھر ہیں، جماعت خانہ ہے جسے بلوچی خوجہ یانی آنو کہتے ہیں اور یہ بدستور قائم ہیں جبکہ ہندوؤں کے مندر بھی موجود ہیں۔ کمپاؤنڈ کے اندر شاہی بازار (پرانی مارکیٹ) سے عمان کے دو مشہورقلعے دیکھے جاسکتے ہیں جسے عرب سپاہی دن و رات اقلیتوں کی حفاظت کے لئے استعمال کرتے تھے۔ 

وقت کے ساتھ حالات تبدیل ہوئے اور بالخصوص جب گوادر 1958 میں پاکستان کا حصہ بنا۔ عمانی فوجی واپس اپنے وطن لوٹ گئے جبکہ کچھ ہندو بھارت اور کراچی آگئے ۔ ان کے ساتھ بہت سے آغا خانی کراچی اور بیرون ملک منتقل ہوگئے۔ بہت سے افراد نے ساحلی شہر کی اسی کالونی میں اپنی رہائش اختیار کرنے کا فیصلہ کیا جہاں ان کے آباؤ اجداد نے زندگی بسر کی۔ 

آج آغاخانیوں کی ایک بڑی تعداد بدستور گوادر میں پرامن طریقے سے رہ رہی ہے۔ ان میں بعض اساتذہ، صحافی، تاجر ہیں جبکہ بہت سے آغا خانیوں کے اپنے ڈیپارٹمنٹل اسٹور ہیں اور بہت سے سرکاری محکموں میں کام کررہے ہیں۔ مارکیٹ میں ایک مشہور اور انتہائی جانا پہچانا ہول سیل اسٹور طارق خوجہ کا ہے اور وہ بھی ایک آغا خانی ہے۔ 

طارق خوجہ نے گاہکوں کو نمٹاتے ہوئے بتایا کہ ہم نے گوادار کو اقلیتوں کے لئے محفوظ مقام پایا ہے جبکہ ہم آغا خانیوں سے ہمیشہ مقامی آبادی جیسا برتاؤ کیا جاتا ہے۔ طویل مدت سے میرا ایک ڈیپارٹمنٹل اسٹور ہے اور بعض اوقات میں نے یہ تک دیکھا کہ مقامی بلوچ اپنے ہی بلوچوں کے اسٹور چھوڑ کر میرے اسٹور سے خریداری کرنے آتے ہیں۔ 

یہ بمشکل ہی کہیں ذکر کیا جاتا ہے کہ اس علاقے میں تعلیم کی ترقی کے لئے آغا خانیوں کا بھی ایک کردار ہے۔ درحقیقت یہ اولین لوگوں میں سے ہیں جنہوں نے گوادر میں انگلش میڈیم ہائی اسکول قائم کیا۔ اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ نہیں ہوا کہ تعلیم کی فراہمی کا آغاز ہوا بلکہ لڑکیوں کی تعلیم کی جانب بھی لوگوں کے اندر ذہنی تبدیلی متعارف ہوئی۔ یہ ان اولین اسکولوں میں شامل ہے جس نے والدین کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ اپنی بیٹیوں کو تعلیم دلوائیں۔ 

گوادر کے ایک شہری نے بتایا کہ ہم کئی بلوچوں نے اس اسکول سے میٹرک کیا اور بہت سے افراد کو موقع ملا کہ وہ وہاں کام کریں۔ اگرچہ یہ اسکول 2008 میں بند ہوگیا لیکن اپنے پیچھے سینکڑوں تخلیقی دماغ چھوڑ گیا، بند ہونے سے قبل اسکول اپنی تدریس کے 100 مکمل کرچکا تھا۔ 

ایک آغا خانی ٹیچر میڈم کلثوم نے گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول میں تقریبا 20 سال پڑھایا۔ ان کو ریٹائرڈ ہوئے 8 سال ہوگئے ہیں۔ اپنی تدریس کے آغاز کے دنوں کو یاد کرتے ہوئے وہ کہتی ہیں کہ ہمارے پاس اس اسکول میں بمشکل ہی کوئی بلوچ خاتون ٹیچر تھیں لیکن آج میں اپنے شاگردوں کو بطور استاد دیکھ کر خوشی ہوتی ہے۔ 

اس مخصوص برادری نے شہر میں نہ صرف تعلیمی شعبے میں صنفی مساوات پر زور دیا بلکہ اس نے صحافت کے میدان میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ گوادر سے تعلق رکھنے والے پہلے صحافی عبدالمجید جندانی ہیں جو اسی برادری سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کے ساتھ آج ان کے بیٹے اکبر جندانی اور دیگر بلوچ صحافی ہیں جو انتہائی شاندار کارکردگی کے ساتھ معاشرے کی بہتری کے لئے مل جل کر کام کرتے ہیں۔ 

گوادر کے آغا خانیوں نے کاروبار کی شاندار مثالیں قائم کی ہیں اور درحقیقت یہ گوادر کے پہلے شہری ہیں جنہوں نے تجارت اور کاروبار کا آغاز کیا۔ آج گوادر میں مچھلیوں کی تین بڑی فیکٹریاں گابا، کریم ایمپیکس اور سی فوڈ کارپوریشن اسی مخصوص برادری کے پاس ہیں۔ 

مقامی افراد کے مطابق خوجہ برادری نے اس خطے میں سماجی تبدیلی لانے کی کسی حد تک بنیاد فراہم کی ہے ۔ اگرچہ یہ اقلیت میں ہیں تاہم اس کے باوجود ان کی جدید کاوشوں نے موجودہ گوادر میں مثبت تبدیلیاں لانے کے لئے اہم کردار ادا کیا ہے۔ 

صوبے میں سیاسی عدم استحکام کے درمیان یہ برادری ہمیشہ متعدل مزاج اور پرامن رہی ہے اور ضرورت کی گھڑی میں یہ ہمیشہ بلوچوں کے ساتھ کھڑی ہوئی ہے۔