Chaghi is the only single Baloch populated district where Afghan refugees are dwelling in great number. The influx of Afghan Refugees, no doubt, has adversely affected the economy of indigenous Baloch people. A large number of refugees have constructed their buildings in Dalbandin, the district headquarters. Even, some of them have constructed buildings among native population.

“It is alarming that the Afghan population in District Chaghi has been worsening law and order situation, and they also do not follow Baloch cultural ethics,” said Allah Baksh, who is a resident of Chaghi.

Furthermore, the local residents of Dalbandin are complainants about the illegal provision of National Identity
Cards to Afghan refugees, allegedly through bribing to NADRA officials have become another issue; it is becoming more difficult for UNHCR officials and Pakistani authorities to send them back to their country.

“Indeed, Chaghi has been hosting bigheartedly Afghan refugees for more than 30 years, in spite of this, they are
involved in criminal activities, kidnapping for ransom and selling lethal weapons,” complain the political activists. Baloch political parties of Balochistan have been demanding to repatriate Afghan refugees back to Afghanistan involuntarily at any cost. According to them, contemporary situation of Afghanistan is stable, so it is a better time, they speak out, and for United Nations High Commissioner for Refugees (UNHCR) officials, to send them back to their native country.

A reliable source of United Nations High Commissioner for Refugees (UNHCR) said, “UNHCR does not advocate for or
against returns to Afghanistan. A refugee’s decision to go home is personnel one and one that needs to be reached
voluntarily.”

“Afghan refugees in Chaghi and other districts of Balochistan are well aware of conditions back in their communities through their networks of friends and family and a decision to return is usually only taken after weeks of discussions, ”said the source.

If it is left up to Afghan refugees to decide about their repatriation, then it is certain they may not quit their residing places in Chaghi and other districts of Balochistan where they are living, because I freshly visited Girdi Jungle, where many of Afghan refugees seemed to be at loggerheads about leaving Girdi Jungle. They said that they were contented over there. They even didn’t have a tinge of thought that they would leave the Girdi Jungle.

Girdi Jungle, some 50 km away from headquarters Dalbandin, also abounds with huge number of Afghan refugees who have relatives in Afghanistan. As it is known to everyone that Chaghi makes a triangular shaped border with Afghanistan and Iran, stuffs can be smuggled easily across the both borders by them. According to former DC Chaghi Dr Saeed Jamali, who said that Durand Line, from the side of Chaghi, consisted of 430 km’s area, on the other hand, from Iran’s border, Zero-Point, 120 km’s areas it takes up.

“Mostly Opium, Hashish, Heroin and other ilk of drugs get supplied into and out of these both countries from Girdi Jungle with ease, as 430 km’s border is somewhat like an “an open” gate for Girdi Jungle and other Chaghi’s dweller refugees, as well as Afghanistan’s Afghans, too. That is why inestimable stuffs are found in every corner of Girdi for sale,” shared Dr Saeed Jamali

Additionally, the complete lawlessness and anarchical condition of Girdi Jungle has given a free hand to Afghan
refugees to sell lethal weapons in broad day light nonchalantly. Because the so-called established check posts and checking by Levies force can’t intercept them at entrance gate. What is irony that checking only gets tightened when local people visit this place.

This claim comes to be spurious that Afghan refugees are living in miserable condition in Girdi jungle because they have all facilities of life in Girdi Jugle, especially in its bazaar. In evening, refugees, always assemble near the mountains of the Girdi Jungle along with their different vehicles and motor bikes to race just for mere time pass. The narcotics are also being carried out to the other parts of country with elite local Balochs.

Secondly, other refugees’ residing place is Lijay Kariaz, which is situated after Chagahay (Tesil of Chaghi), located 68 km from Dalbandin. As compared to Girdi Jungle, Lijay Kariaz is nearer to Afghanistan’s border. Unfortunately, local Balochs are nowhere to be seen here too. They have formed somewhat their own world at this place.

Thirdly, Posti, another Afghan refugees’ occupied place, located 60 km away from Dalbandin town. A long ago, they were residing in camps, but now these camps changed into buildings. In Posti, local people also dwell but they all seem to feel insecure there due to largely presence of Afghan refugees. Therefore the local people demand from the government that all Afghan refugees should be repatriated back involuntarily, so that they may take a sigh of relief.

چاغی میں افغان پناہ گزین 
محمد اکبر نوتیزئی

چاغی بلوچستان کا وہ واحد ضلع ہے جہاں افغان پناہ گزینوں کی ایک بڑی تعداد رہائش پذیر ہے۔ افغان پناہ گزینوں کی بڑی تعداد میں آمد کے باعث یہاں مقامی بلوچوں کا ذریعہ آمدن شدید متاثر ہوا ہے ۔ پناہ گزینوں کی ایک بڑی تعداد نے ضلعی صدر مقام دلبدین میں عمارتیں تعمیر کرلی ہیں۔ یہاں تک کہ بعض نے مقامی آبادیوں کے اندر بھی عمارتیں تعمیر کرلی ہیں۔ 

چاغی کے ایک رہائشی اللہ بخش نے بتایا کہ یہ خطرے کی بات ہے کہ ضلع چاغی میں افغان شہری امن و امان کی صورتحال خراب کررہے ہیں جبکہ وہ بلوچ سماجی روایات کو بھی نہیں مانتے۔ 

اس کے علاوہ دلبدین کے مقامی رہائشیوں نے افغان پناہ گزینوں کو غیرقانونی قومی شناختی کارڈز کی فراہمی کی بھی شکایت کیں جو مبینہ طور پر نادرا حکام کو رشوت دیتے ہیں ، یہ ایک الگ مسئلہ ہے جو اقوام متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزیں (یو این ایچ سی آر) اور پاکستانی حکام کیلئے مزید مشکل ہوگیا ہے کہ انہیں ان کے وطن واپس بھیجا جائے۔ 

وہاں پر سیاسی کارکنوں نے شکایت کی کہ افغان پناہ گزینوں کی جانب سے مجرمانہ سرگرمیوں، اغوا برائے تاوان اور خطرناک ہتھیاروں کی فروخت میں ملوث ہونے کے باوجود چاغی درحقیقت 30 سال سے زائد مدت سے افغان پناہ گزینوں کی کھلے دل کے ساتھ میزبانی کررہا ہے۔ 

بلوچستان کی سیاسی جماعتیں ایک عرصہ سے مطالبہ کررہی ہیں کہ افغان پناہ گزینوں کو کسی بھی قیمت پر زبردستی افغانستان واپس بھیجا جائے۔ ان کے مطابق افغانستان کے موجودہ حالات مستحکم ہیں، اس لئے یہ بہتر وقت ہے کہ اس معاملے کیلئے اقوام متحدہ کے ادارے برائے پناہ گزین کے حکام پر دباؤ ڈالا جائے کہ افغان پناہ گزینوں کو آبائی وطن واپس بھیجا جائے۔ 

اقوام متحدہ کے ادارے برائے پناہ گزین کے قابل اعتماد ذرائع کے مطابق “ان کا ادارہ پناہ گزینوں کو افغانستان واپس بھیجنے کے عمل کی حمایت یا مخالفت کی وکالت نہیں کرتا۔ یہ پناہ گزینوں کا اپنا ذاتی فیصلہ ہے کہ وہ گھر جائیں لیکن ان کو رضاکارانہ طور پر واپس پہنچانے کی ضرورت ہے۔”

اقوام متحدہ کے ذرائع کے مطابق “چاغی سمیت بلوچستان کے دیگر اضلاع میں موجود افغان پناہ گزین اپنے دوستوں اور اہل خانہ کے رابطوں کے ذریعے اپنے علاقوں میں موجود حالات سے اچھی طرح واقف ہیں جبکہ ان کی واپسی کا فیصلہ عام طور پر ہفتوں کے غور و خوض کے بعد کیا جاتا ہے۔” 

اگر واپسی کا فیصلہ ان افغان پناہ گزینوں پر چھوڑا جاتا ہے تو یہ بات یقینی ہے کہ وہ چاغی سمیت بلوچستان کے دیگر اضلاع میں موجود اپنے رہائشی مقامات نہیں

چھوڑیں گے کیونکہ حال ہی میں، میں نے گردی جنگل کا دورہ کیا جہاں بہت سے افغان پناہ گزینوں کے درمیان گردی جنگل چھوڑنے پر اختلاف پایا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ وہ وہاں مطمئن ہیں۔ ان کے ذہن میں دور دور تک یہ خیال نہیں ہے کہ وہ گردی جنگل چھوڑ دیں گے۔ 

گردی جنگل دلبدین کے صدر مقام سے 50 کلومیٹر دوری پر واقع ہے جہاں پر افغان پناہ گزینوں کی بڑی تعداد ہے اور افغانستان میں انکے رشتہ دار مقیم ہیں۔ یہ بات مشہور ہے کہ چاغی افغانستان اور ایران کے مشترکہ سرحد کی تکون بناتا ہے یوں افغان شہری دونوں سرحدوں سے باآسانی سامان اسمگل کرسکتے ہیں۔ 

چاغی کے سابق ڈپٹی کمشنر ڈاکٹر سعید جمالی کے مطابق چاغی سے ڈیورنڈ لائن کا 430 کلومیٹر کا علاقہ لگتا ہے جبکہ دوسری جانب ایران کی سرحد زیرو پوائنٹ پر یہ 120 کلومیٹر کا رقبہ لگتا ہے۔ 

ڈاکٹر سعید جمالی نے بتایا کہ افیون، حشیش، ہیروئن اور دیگر اقسام کی منشیات گردی جنگل کے ذریعے باآسانی لائی جاتی ہے اور فراہم بھی کی جاتی ہے۔ چاغی میں پناگزینوں کے لئے گردی جنگل کے ساتھ 430 کلومیٹر کی سرحد ایک کھلی راہداری ہے جسے چاغی کے مقامی رہائشیوں، پناہ گزینوں کے علاوہ افغانی بھی استعمال کرتے ہیں۔ اسی وجہ سے گردی میں ہر جگہ بے تحاشہ سامان فروخت کے لئے موجود ہے۔ 

گردی جنگل میں مکمل لاقانونیت اور انارکی نے افغان پناہ گزینوں کو کھلی چھوٹ دیدی ہے کہ وہ دن دیہاڑے خطرناک ہتھیار فروخت کریں کیونکہ وہاں موجود برائے نام چیک پوسٹیں اور لیویز فورس ان کو داخلی دروازے پر چیکنگ کے لئے نہیں روکتی۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ جب مقامی افراد اس چیک پوسٹوں سے گزرتے ہیں تو صرف ان ہی کی سختی سے تلاشی لی جاتی ہے۔ 

یہ دعویٰ من گھڑت معلوم ہوتا ہے کہ افغان پناہ گزین گردی جنگل میں کسمہ پرسی کی زندگی بسر کررہے ہیں ، کیونکہ وہاں ان کے پاس ضروریات زندگی کی تمام سہولیات موجود ہیں بالخصوص انکے بازار بھی قائم ہیں۔ روزانہ شام کے وقت پناہ گزین گردی جنگل کے پہاڑوں کے قریب مختلف گاڑیوں اور موٹرسائیکلوں کے ساتھ جمع ہوتے ہیں اور وقت گزاری کے لئے ریس لگاتے ہیں۔ 

اس کے علاوہ مقامی بلوچ اشرافیہ کے ساتھ مل کر ملک کے دیگر حصوں میں منشیات بھی لے جائی جاتی ہے۔ 

دوسرا یہ کہ چاغی کی تحصیل چاگاہائے کے آگے لیجے کاریاز کے مقام پر دیگر پناہ گزین رہائش پذیر ہیں۔ یہ مقام دلبدین سے 68 کلومیٹر دور ہے۔ گردی جنگل کے مقابلے میں لیجے کاریاز افغان سرحد سے زیادہ قریب ہے۔ بدقسمتی سے یہاں پر بھی مقامی بلوچ ڈھونڈھنے سے نہیں ملتے۔ انہوں نے اس مقام پر اپنی الگ دنیا آباد کرلی ہے۔ 

تیسرا یہ کہ افغان پناہ گزینوں کے قبضے میں موجود ایک اور مقام پوستی ہے جو دلبدین سے 60 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ کسی زمانے میں وہ کیمپوں میں مقیم تھے لیکن اب یہ کیمپ عمارتوں میں تبدیل ہوگئے ہیں۔ 

پوستی میں مقامی لوگ بھی رہائش پذیر ہیں لیکن افغان پناہ گزینوں کی کثرت کے باعث وہ غیرمحفوظ نظر آتے ہیں۔ اسی وجہ سے مقامی لوگوں کا حکومت سے مطالبہ ہے کہ تمام افغان پناہ گزینوں کو زبردستی واپس بھیجا جائے تاکہ وہ سکون کا سانس لے سکیں۔