The dusty evenings of summer at times reminds me of an old woman named Amma ‘Mah Ganj’ from my area Awaran.
She comes to mind whenever I think about our unprivileged area. Mah Ganj has been for years associated with a skill
that demands extremely hard working. The skill is at the same time valuable and beautiful. Sitting on a charpoy
near a water-skin and talking to her animals in her local dialect, Amma Mah Ganj used to make handmade mats,
baskets, fans (Gawato), local slippers (Swas), brooms, ropes and other valuable things.

The Baloch people are fortunate to have culture spread over its land in its various colours.

And this culture looks even beautiful when living in this culture you get the basic necessities of which is a
fundamental right of every human being.

It is nothing but an irony that Amma Mah Ganj comes from a region, which is rich in mineral resources and the sea coast.

Amma Mah Ganj and other women in this profession expect to get a reasonable wage by crafting such beautiful things. However, the reality is to the contrary. One can only imagine the labour and hard work that goes into this art by looking at the needle pricks on her hands. We only wished that the products made from dry leaves of date trees could bring some relief to her financially dry life.

Amma Mah Ganj proudly says, “I don’t know what modernisation is. But I can tell you that no matter how much the world develops, these products will never lose their prominence.”

Indeed, the fact is that these products made with such hardship are not only useful but also an integral part of Baloch culture.

It is a need of the hour to exhibit all these products at the international level and a proper wage given to the workers. This will not only help eliminate poverty but would also restore the confidence of local people.

It is nothing but an irony that Amma Mah Ganj comes from a region, which is rich in mineral resources and the sea coast.

Amma Mah Ganj and other people of her area don’t know how a leader from the middle or feudal class would bring a change in her life; when Gawadar Port would be built and how much would it contribute to the wellbeing of Baloch people; or if the long-standing suffering would ever change into prosperity?

Instead of deluding in the name of the Gawadar to Kashgar economic corridor, if practical measures are taken and skillful people get access to the wider international market, then the people of Balochistan can benefit from these facilities – actually the dream of every common man.

ماہ گنج
تحریر اقبال سلال

دھول اڑاتی گرمیوں کی شام مجھے اکثر ہمارے علاقے آواران کی ضعیف خاتون اماں ‘ماہ گنج’ کی یاد دلاتی ہے۔ میں اکثر و بیشتر جب اپنے علاقے کی تنگ حالی کے بارے میں سوچتا ہوں تو ہمیشہ ماہ گنج کی شبیہ میرے ذہن میں ابھر آتی ہے جو پچھلے کئی سالوں سے ایک ایسے ہنر سے وابستہ ہے جو نہایت محنت طلب، گراں قدر ہونے کے ساتھ دلکش بھی ہے۔ گدان میں بیٹھی ماہ گنج کے قریب رکھا مشکیزہ اور دیسی انداز میں اپنی بھیڑ بکریوں سے مخاطب اماں ماہ گنج اپنے ہاتھوں سے بنی چٹائیاں، ٹوکریاں، دیسی پنکھے (گواتو)، دیسی چپل (سواس)، جھاڑو، رسیاں اور کئی دیگر دلفریب چیزیں بنانے میں مصروف رہتی تھی۔

بلوچ قوم کا شمار ان خوش نصیب اقوام میں ہوتا ہے جن کی سرزمین پر ہر قدم پر اس کی ثقافت کے رنگ بکھرے ہوئے ہیں ۔
یہ ثقافت اس وقت اور بھی بھلی لگتی ہے جب آپ اس ثقافت میں رہتے ہوئے بنیادی ضروریات زندگی ،جو ہر انسان کا حق ہے ،حاصل کرسکیں۔

اماں ماہ گنج اور ان جیسی دیگر خواتین ان خوبصورت اشیاء کو بنانے کے ساتھ ساتھ اس بات کی امید رکھتی ہیں کہ انہیں مناسب اجرت مل سکے جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ یہ ہنر کتنی محنت اور مشقت مانگتا ہے اس کا اندازہ آپ کو اماں ماہ گنج کے ہاتھوں میں چبھی ہوئی سوئیوں کے نشانات سے ہوتا ہے۔ کھجور کے خشک پتوں سے بْنی ہوئی تمام اشیاء کاش اتنی اجرت دے پاتیں کہ وہ اپنی خشک زندگی سے مالی خوشحالی دیکھ پاتیں۔

اماں ماہ گنج بڑے فخر سے بتاتی ہیں کہ ” مجھے نہیں معلوم کہ جدید دور کسے کہتے ہیں۔ دنیا نے ترقی تو کرلی مگر میں اس بات پر یقین رکھتی ہوں کہ دنیا چاہے جتنی بھی ترقی کرلے یہ تمام اشیاء کبھی اہمیت نہیں کھوئیں گی۔

دراصل حقیقت بھی کچھ یوں ہی ہے کہ یہ جفاکشی اور محنت سے بنائی گئی اشیاء نہ صرف کارآمد ہیں بلکہ بلوچستان کی ثقافت کا اہم حصہ ہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ان تمام اشیاء کی اگر عالمی سطح پر نمائش کی جائے اور انہیں مناسب اجرت دی جائے تو نہ صرف غربت کے خاتمے میں مدد ملے گی بلکہ اس کے ساتھ مقامی لوگوں کا اعتماد بھی بحال ہوگا۔

یہ ستم ظریفی نہیں تو اور کیا ہے کہ اماں ماہ گنج ایک ایسے خطے سے تعلق رکھتی ہیں جہاں معدنیات، ساحل وسائل سبھی کچھ تو موجود ہے ۔

اماں ماہ گنج اور ان کے علاقے سے تعلق رکھنے والے افراد یہ نہیں جانتے کہ ایک متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والا یا ایک سرداری ذہن رکھنے والا لیڈر ان کی زندگی میں کیا تبدیلی لائے گا۔ گوادر پورٹ کب بنے گی اور اس ترقی میں بلوچستان کے رہنے والے مقامی افراد کا کیا حصہ ہوگا۔ طویل عرصے کی پسماندگی اور لاچارگی کبھی خوشحالی میں تبدیل ہوگی کہ نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔

اقتصادی راہداری گوادر کاشغر سڑک کے شوشے کے بجائے اگر عملی اقدامات کئے جائیں اور ان تمام ہنر مند افراد کو ایک وسیع عالمی مارکیٹ میسر ہو تو بلوچستان کے عوام ان تمام سہولیات سے مستفید ہوسکتے ہیں جو ایک عام آدمی کا خواب ہوتا ہے۔